حدیث نمبر: 2041
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، عَنْ أَبِي صَخْرٍ حُمَيْدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ ، إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھ پر جب بھی کوئی سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح مجھے لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2041
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (925), يزيد بن عبد الله بن قسيط ثبت سماعه من أبي ھريرة عند البيھقي (1/ 122)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 14839)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/527) (حسن) »
حدیث نمبر: 2042
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا ، وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا ، وَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي حَيْثُ كُنْتُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو میلا نہ بناؤ ( کہ سب لوگ وہاں اکٹھا ہوں ) ، اور میرے اوپر درود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی رہو گے تمہارا درود مجھے پہنچایا جائے گا “ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس میں نماز پڑھنا اور عبادت کرنا نہ چھوڑو کہ تم اس میں مردوں کی طرح ہو جاؤ اس سے معلوم ہوا کہ جس گھر میں نماز اور عبادت نہیں ہوتی وہ قبرستان کے مانند ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2042
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (926)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 13032)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/367) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2043
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَبِيعَةَ يَعْنِي ابْنَ الْهُدَيْرِ ، قَالَ : مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : وَمَا هُوَ ؟ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ قُبُورَ الشُّهَدَاءِ ، حَتَّى إِذَا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ ، فَلَمَّا تَدَلَّيْنَا مِنْهَا وَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ ؟ قَالَ : " قُبُورُ أَصْحَابِنَا " فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ ، قَالَ : " هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیعہ بن ہدیر کہتے ہیں کہ` میں نے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو سوائے اس ایک حدیث کے کوئی اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے نہیں سنا ، میں نے عرض کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ تو انہوں نے کہا : ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، آپ شہداء کی قبروں کا ارادہ رکھتے تھے جب ہم حرۂ واقم ( ایک ٹیلے کا نام ہے ) پر چڑھے اور اس پر سے اترے تو دیکھا کہ وادی کے موڑ پر کئی قبریں ہیں ، ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارے صحابہ کی قبریں ہیں ۱؎ “ ، جب ہم شہداء کی قبروں کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: جن کی موت اسلام پر ہوئی ہے اور وہ شہداء کا مقام نہیں پا سکے ہیں۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
۲؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کی نسبت ان کی طرف کی یہ ان کے لئے بڑے شرف کی بات ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2043
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 4997)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/161) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2044
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ ، فَصَلَّى بِهَا " ، فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحاء میں جو ذی الحلیفہ میں ہے اونٹ بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی ، چنانچہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2044
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1532) صحيح مسلم (1257 بعد ح 1345)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/الصلاة 89 (484)، والحج 14 (1532)، 15 (1533)، 16 (1535)، والعمرة 14 (1799)، والمزارعة 16 (2336)، صحیح مسلم/الحج 6 (1188)، 77 (1275)، سنن النسائی/المناسک 24 (2660)، ( تحفة الأشراف: 8338)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 69(206)، مسند احمد (2/28، 87، 112، 138) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2045
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : قَالَ مَالِكٌ : " لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُجَاوِزَ الْمُعَرَّسِ إِذَا قَفَلَ رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فِيهَا مَا بَدَا لَهُ ، لِأَنَّهُ بَلَغَنِي أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ ، قَالَ : الْمُعَرَّسُ عَلَى سِتَّةِ أَمْيَالٍ مِنْ الْمَدِينَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مالک کہتے ہیں` جب کوئی مدینہ واپس لوٹے اور معرس پہنچے تو اس کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے جب تک کہ نماز نہ پڑھ لے جتنا اس کا جی چاہے اس لیے کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں رات کو قیام کیا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے محمد بن اسحاق مدنی کو کہتے سنا : معرس مدینہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2045
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, الف: انظر الحديث السابق (2044)، ب: رواية عبدالله العمري عن نافع قوية
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، موطا امام مالک/الحج/ عقب حدیث (206) (صحیح) »