کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کعبہ میں مدفون مال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2031
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ شَيْبَةَ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، قَالَ : " قَعَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي مَقْعَدِكَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ ، فَقَالَ : لَا أَخْرُجُ حَتَّى أَقْسِمَ مَالَ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ ، قَالَ : بَلَى ، لَأَفْعَلَنَّ ، قَالَ : قُلْتُ : مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ ، قَالَ : لِمَ قُلْتُ ؟ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَى مَكَانَهُ وَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُمَا أَحْوَجُ مِنْكَ إِلَى الْمَالِ فَلَمْ يُخْرِجَاهُ ، فَقَامَ فَخَرَجَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شیبہ بن عثمان کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو اور کہا : میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال ۱؎ ( محتاج مسلمانوں میں ) تقسیم نہ کر دوں ، میں نے کہا : آپ ایسا نہیں کر سکتے ، فرمایا : کیوں نہیں ، میں ضرور کروں گا ، میں نے کہا : آپ ایسا نہیں کر سکتے ، وہ بولے : کیوں ؟ میں نے کہا : اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی دیکھ رکھی تھی ، اور وہ دونوں اس مال کے آپ سے زیادہ حاجت مند تھے لیکن انہوں نے اسے نہیں نکالا ، یہ سن کر عمر کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے ۔
وضاحت:
۱؎: بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے یہ مال امام مہدی کے لئے رکھ چھوڑا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2031
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3116), عبد الرحمٰن بن محمد المحاربي مدلس(طبقات المدلسين: 8/ 3) وعنعن, وحديث البخاري (1594،7375) يغني عن ھذا الحديث, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 48 (1594)، والاعتصام 2 (7275)، سنن ابن ماجہ/المناسک 105 (3116)، ( تحفة الأشراف: 4849)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/410) (صحیح) »