کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کعبہ میں داخل ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2029
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا وَهُوَ مَسْرُورٌ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ وَهُوَ كَئِيبٌ ، فَقَالَ : " إِنِّي دَخَلْتُ الْكَعْبَةَ ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا دَخَلْتُهَا ، إِنِّي أَخَافُ أَنْ أَكُونَ قَدْ شَقَقْتُ عَلَى أُمَّتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے نکلے اور آپ خوش تھے پھر میرے پاس آئے اور آپ غمگین تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں کعبے کے اندر گیا اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی ۱؎ تو میں اس میں داخل نہ ہوتا ، مجھے اندیشہ ہے کہ میں نے اپنی امت کو زحمت میں ڈال دیا ہے ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کہ لوگوں کو کعبہ کے اندر داخل ہونے میں بڑی پریشانیاں اٹھانا پڑیں گی۔
۲؎: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح ثابت ہوا عوام نے کعبہ کے اندر جانے کو ضروری سمجھ لیا چنانچہ اس کے لئے انہیں بڑی دھکم پیل کرنی پڑتی تھی، اللہ بھلا کرے سعودی حکومت کا جس نے کعبہ کے اندر عام لوگوں کا داخلہ بند کر دیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2029
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (873) ابن ماجه (3064), إسماعيل بن عبدالملك ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 77
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 45 (873)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3064)، ( تحفة الأشراف: 16230)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/137) (ضعیف) » (اس کے راوی اسماعیل کثیرالوہم ہیں)
حدیث نمبر: 2030
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ ، حَدَّثَنِي خَالِي ، عَنْ أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ الَأسْلَمِيَّةَ ، تَقُولُ : قُلْتُ لِعُثْمَانَ : مَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَعَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ : " إِنِّي نَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَ الْقَرْنَيْنِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّيَ " ، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ : خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسلمیہ کہتی ہیں کہ` میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے پوچھا ۱؎ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو بلایا تو آپ سے کیا کہا ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہیں یہ بتانا بھول گیا کہ مینڈھے ۲؎ کی دونوں سینگوں کو چھپا دو اس لیے کہ کعبہ میں کوئی چیز ایسی رہنی مناسب نہیں ہے جو نماز پڑھنے والے کو غافل کر دے “ ۔
وضاحت:
۱؎: عثمان سے مراد عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہ ہیں۔
۲؎: اس دنبہ کی سینگیں جس کو اسماعیل علیہ السلام کی جگہ پر ذبح کرنے کے لئے جبریل علیہ السلام لے آئے تھے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2030
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر مسند الحميدي بتحقيقي (565 وسنده حسن) الأسلمية أراھا صحابية بدليل رواية صفية بنت شيبة وھي صحابية عنھا والله أعلم
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 9762)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/380) (صحیح) »