کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کعبہ کے اندر نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 2023
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَ بِلَالٌ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ فَمَكَثَ فِيهَا " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ : مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ ، وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ، ثُمَّ صَلَّى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اسامہ بن زید ، عثمان بن طلحہ حجبی اور بلال رضی اللہ عنہم کعبہ میں داخل ہوئے ، پھر ان لوگوں نے اسے بند کر لیا ، اور اس میں رکے رہے ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے جب وہ باہر آئے تو پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا ؟ وہ بولے : آپ نے ایک ستون اپنے بائیں طرف اور دو ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کیا ( اس وقت بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا ) پھر آپ نے نماز پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2023
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (505) صحيح مسلم (1329)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، 81 (486)، 96 (504)، التھجد 25 (1167)، الحج 51 (1598)، الجھاد 127 (2988)، المغازي 49 (4289)، 77 (4400)، صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن النسائی/المساجد 5 (693)، القبلة 6 (750)، الحج 126 (2908)، 127 (2909)، سنن ابن ماجہ/المناسک 79 (3063)، ( تحفة الأشراف: 2037، 8331)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 46 (874)، موطا امام مالک/الحج 63 (193)، مسند احمد (2/33، 55، 113، 120، 138، 6/12، 13، 14، 15)، سنن الدارمی/المناسک 43 (1908) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2024
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَذْرَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، لَمْ يَذْكُرِ السَّوَارِيَ ، قَالَ : ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی مالک سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ستونوں کا ذکر نہیں ، البتہ اتنا اضافہ ہے ” پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ، آپ کے اور قبلے کے درمیان تین ہاتھ کا فاصلہ تھا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2024
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2023)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 2037، 8331) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2025
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ ، قَالَ : وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَمْ صَلَّى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قعنبی کی حدیث کے ہم مثل روایت کی ہے اس میں اس طرح ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ؟ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2025
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, تقدم طرفه (1959) وھو متفق عليه وانظر الحديث السابق (2023)
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (2023)، ( تحفة الأشراف: 2037) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2026
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ ، قَالَ : قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : " صَلَّى رَكْعَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن صفوان کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ نے کیا کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2026
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, وللمتن شواھد عند البخاري (397) وغيره، فالحديث صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 10590)، وقد أخرجہ: (حم 3/430، 431) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2027
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيهِ الْآلِهَةُ ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ ، قَالَ : فَأُخْرِجَ صُورَةُ إِبْرَاهِيمَ وَ إِسْمَاعِيلَ وَفِي أَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَاتَلَهُمُ اللَّهُ ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمُوا مَا اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ " ، قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ وَفِي زَوَايَاهُ ، ثُمَّ خَرَجَ وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ آئے تو آپ نے کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کیا کیونکہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو وہ نکال دیئے گئے ، اس میں ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں بھی تھیں ، وہ اپنے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر لیے ہوئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ انہیں ہلاک کرے ، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان دونوں ( ابراہیم اور اسماعیل ) نے کبھی بھی فال نہیں نکالا “ ، وہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس کے گوشوں اور کونوں میں تکبیرات بلند کیں ، پھر بغیر نماز پڑھے نکل آئے ۔
وضاحت:
۱؎: فال کے ان تیروں پر «’’افعل‘‘،’’لا تفعل‘‘،’’لا شيء‘‘» لکھا ہوتا تھا، ان کی عادت تھی جب وہ سفر پر نکلتے تو اس کو ایک تھیلی میں ڈال کر اس میں سے ایک کو نکالتے، اگر حسن اتفاق سے اس تیر پر «افعل» لکھا ہوتا تو سفر پر نکلتے، اور «لا تفعل» لکھا ہوتا تو سفر کو ملتوی کر دیتے اور اگر «لا شيء» لکھا رہتا تو پھر دوبارہ سب کو ڈال کر نکالتے، یہاں تک کہ «افعل» یا «لا تفعل» نکل آئے، رہی یہ بات کہ ’’ آپ نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی‘‘ تو یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے علم کی بنیاد پر کہا ہے، ترجیح بلال رضی اللہ عنہ کے بیان کو ہے جنہوں نے قریب سے دیکھا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2027
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1601)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الصلاة 30 (397)، وأحادیث الأنبیاء 8 (3351)، والحج 54 (1601)، والمغازي 48 (4288)، (تحفة الأشراف: 5995)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1329)، سنن النسائی/المناسک 130 (2916)، مسند احمد (1/334، 365) (صحیح) »