کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: وادی محصب میں اترنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2008
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے میں آسانی ہو ، یہ کوئی سنت نہیں ، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: محصب، ابطح، بطحاء، خیف کنانہ سب ہم معنی ہیں اور اس سے مراد مکہ اور منٰی کے درمیان کا علاقہ ہے جو منٰی سے زیادۃ قریب ہے۔ محصب میں نزول و اقامت مناسک حج میں سے نہیں، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد آرام فرمانے کے لئے یہاں اقامت کی تھی اور یہاں پر عصر، ظہر و عصر اور مغرب و عشاء ادا فرمائیں اور چودہویں رات گزاری، لیکن چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں نزول فرمایا، تو آپ کی اتباع میں یہاں کی اقامت مستحب ہے، خلفاء نے آپ کے بعد اس پر عمل کیا ہے، امام شافعی، امام مالک اور جمہور اہل علم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اقتداء میں اسے مستحب قرار دیا ہے، اور اگر کسی نے وہاں نزول نہ کیا تو بالاجماع کوئی حرج کی بات نہیں، نیز ظہر، عصر اور مغرب و عشاء کی نماز پڑھنی، نیز رات کا ایک حصہ یا پوری رات سونا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مستحب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2008
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, رواه البخاري (1765) ومسلم (1311)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 16785، 17330)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 147 (1765)، صحیح مسلم/الحج 59 (1311)، سنن الترمذی/الحج 82 (923)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3067)، مسند احمد (6/190) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2009
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو رَافِعٍ : " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ " ، قَالَ مُسَدَّدٌ : وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ عُثْمَانُ : يَعْنِي فِي الْأَبْطَحِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ` ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں ( محصب میں ) اتروں ، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا ، آپ وہاں اترے تھے ۔ مسدد کی روایت میں ہے ، وہ ( ابورافع ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے ( مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے ) ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2009
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1313)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 59 (1313)، ( تحفة الأشراف: 12016) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2010
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ ؟ قَالَ : " هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ؟ " ثُمَّ قَالَ : " نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ ، يَعْنِي الْمُحَصَّبَ ، وَذَلِكَ أَنْ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَالْخَيْفُ الْوَادِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے ( مکہ میں ) چھوڑا ہے ؟ “ ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا ( یعنی وادی محصب میں ) ۱؎ “ ، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے ، نہ خرید و فروخت ، اور نہ انہیں پناہ دیں گے ۔ زہری کہتے ہیں : خیف وادی کا نام ہے ۔
وضاحت:
۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وادی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اترے کہ جہاں پر کفر کا دور دورہ تھا، اب وہاں اسلام کا غلبہ ہو گیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (3058) صحيح مسلم (1351)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 44 (1588)، والجھاد 180 (3058)، ومناقب الأنصار 39 (4282)، والمغازي 48 (4282)، والتوحید 31 (7479)، صحیح مسلم/الحج 80 (1351)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 6 (2730)، والمناسک 26 (2942)، (تحفة الأشراف: 114)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفرائض 15 (2107)، موطا امام مالک/الفرائض 13 (10)، مسند احمد (2/237)، سنن الدارمی/الفرائض 29 (3036) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2011
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو يَعْنِي الْأَوْزَاعِيَّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حِينَ أَرَادَ أَنْ يَنْفِرَ مِنْ مِنًى : " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ وَلَا ذَكَرَ الْخَيْفَ الْوَادِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا : ” ہم وہاں کل اتریں گے “ ۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا ، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں ، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2011
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1590) صحيح مسلم (1314)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/ الحج 45 (1590)، صحیح مسلم/الحج 59 (1314)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4202)، (تحفة الأشراف: 15199)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/ 237، 540) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2012
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ ، ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ ، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2012
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, رواه البخاري (1768 مطولًا)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 6658، 7590)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 148(1767)، صحیح مسلم/الحج 59 (1275)، سنن الترمذی/الحج 81 (921)، سنن ابن ماجہ/المناسک 81 (3068)، مسند احمد (2/28، 138) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2013
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِالْبَطْحَاءِ ، ثُمَّ هَجَعَ هَجْعَةً ، ثُمَّ دَخَلَ مَكَّةَ " ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے ، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2013
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (2012)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 6658، 7590) (صحیح) »