کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: طواف وداع کا بیان۔
حدیث نمبر: 2005
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَفْلَحَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : أَحْرَمْتُ مِنْ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ ، قَالَتْ : وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں ( مکہ ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر ( آپ کے پاس واپس آ گئی ) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے ۔
وضاحت:
۱؎: وہ میدان جو مکہ اور منیٰ کے درمیان ہے اسے وادی محصب بھی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2005
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح، صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211), مشكوة المصابيح (2667), انظر الحديث الآتي (2006)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، ( تحفة الأشراف:17443،17440)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/124) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَرَجْتُ مَعَهُ ، تَعْنِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي النَّفْرِ الْآخِرِ ، فَنَزَلَ الْمُحَصَّبَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنُ بَشَّارٍ قِصَّةَ بَعْثِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَتْ : ثُمَّ جِئْتُهُ بِسَحَرٍ ، فَأَذَّنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ ، فَارْتَحَلَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَطَافَ بِهِ حِينَ خَرَجَ ثُمَّ انْصَرَفَ مُتَوَجِّهًا إِلَى الْمَدِينَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے ، ( ابوداؤد کہتے ہیں : ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا ) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی ، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا ، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2006
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1560) صحيح مسلم (1211)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 17434، 17441) (صحیح) »
حدیث نمبر: 2007
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُمِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا جَازَ مَكَانًا مِنْ دَارِ يَعْلَى نَسِيَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ اسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ فَدَعَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے ( اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے ) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: نہ تو یہ حدیث صحیح ہے اور نہ ہی باب سے اس کا کوئی تعلق ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 2007
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (2899), عبدالرحمان بن طارق: مجهول،انظر التحرير (3904) وثقه ابن حبان وحده, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 123 (2899)، ( تحفة الأشراف: 18374)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/436، 437) (ضعیف) » (اس کے راوی عبدالرحمن لین الحدیث ہیں)