کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عمرے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، وَيَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : "اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ کیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1986
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1774)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العمرة 2 (1774)، ( تحفة الأشراف: 7345) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1987
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وَاللَّهِ مَا أَعْمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ فِي ذِي الْحِجَّةِ إِلَّا لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ أَمْرَ أَهْلِ الشِّرْكِ ، فَإِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ قُرَيْشٍ وَمَنْ دَانَ دِينَهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ : إِذَا عَفَا الْوَبَرْ وَبَرَأَ الدَّبَرْ وَدَخَلَ صَفَرْ فَقَدْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ لِمَنِ اعْتَمَرْ ، فَكَانُوا يُحَرِّمُونَ الْعُمْرَةَ حَتَّى يَنْسَلِخَ ذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو ذی الحجہ میں عمرہ صرف اس لیے کرایا کہ مشرکین کا خیال ختم ہو جائے اس لیے کہ قریش کے لوگ نیز وہ لوگ جو ان کے دین پر چلتے تھے ، کہتے تھے : جب اونٹ کے بال بڑھ جائیں اور پیٹھ کا زخم ٹھیک ہو جائے اور صفر کا مہینہ آ جائے تو عمرہ کرنے والے کا عمرہ درست ہو گیا ، چنانچہ وہ ذی الحجہ اور محرم ( اشہر حرم ) کے ختم ہونے تک عمرہ کرنا حرام سمجھتے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن ق نحوه دون قول ابن عباس في أوله والله أهل الشرك , شیخ زبیر علی زئی: حسن, محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (1/261)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 5722)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 34 (1564)، ومناقب الأنصار 26 (3832)، صحیح مسلم/الحج 31 (1240)، سنن النسائی/الحج 77 (2816)، 108 (2870)، مسند احمد (1/252، 261) (حسن) »
حدیث نمبر: 1988
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَنِي رَسُولُ مَرْوَانَ الَّذِي أُرْسِلَ إِلَى أُمِّ مَعْقَلٍ ، قَالَتْ : كَانَ أَبُو مَعْقَلٍ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا قَدِمَ ، قَالَتْ أُمُّ مَعْقَلٍ : قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ عَلَيَّ حَجَّةً فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَلَيَّ حَجَّةً وَإِنَّ لِأَبِي مَعْقَلٍ بَكْرًا ، قَالَ أَبُو مَعْقَلٍ : صَدَقَتْ جَعَلْتُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِهَا فَلْتَحُجَّ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، فَأَعْطَاهَا الْبَكْرَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ كَبِرْتُ وَسَقِمْتُ ، فَهَلْ مِنْ عَمَلٍ يُجْزِئُ عَنِّي مِنْ حَجَّتِي ؟ قَالَ : " عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ حَجَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوبکر بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ` مجھے مروان کے قاصد ( جسے ام معقل رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تھا ) نے خبر دی ہے کہ ام معقل کا بیان ہے کہ ابو معقل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو نکلنے والے تھے جب وہ آئے تو ام معقل رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : آپ کو معلوم ہے کہ مجھ پر حج واجب ہے ۱؎ ، چنانچہ دونوں ( ام معقل اور ابو معقل رضی اللہ عنہما ) چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، ام معقل نے کہا : اللہ کے رسول ! ابو معقل کے پاس ایک اونٹ ہے اور مجھ پر حج واجب ہے ؟ ابو معقل نے کہا : یہ سچ کہتی ہے ، میں نے اس اونٹ کو اللہ کی راہ میں دے دیا ہے ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اونٹ اسے دے دو کہ وہ اس پر سوار ہو کر حج کر لے ، یہ بھی اللہ کی راہ ہی میں ہے “ ، ابومعقل نے ام معقل کو اونٹ دے دیا ، پھر وہ کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میں عمر رسیدہ اور بیمار عورت ہوں ۲؎ کوئی ایسا کام ہے جو حج کی جگہ میرے لیے کافی ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمضان میں عمرہ کرنا ( میرے ساتھ ) حج کرنے کی جگہ میں کافی ہے ۳؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا لیکن میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت مقدر نہیں تھی اور میں نہیں جا سکی۔
۲؎: اس لئے مجھے نہیں معلوم کہ میں حج کب کر سکوں گی۔
۳؎: یعنی رمضان میں عمرہ کا ثواب میرے ساتھ حج کے ثواب کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1988
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله المرأة إني امرأة ... حجتي , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي في الكبريٰ (4227), رسول مروان : لم أعرفه وأصل الحديث صحيح،رواه أحمد (406/6) بسند حسن : ((عمرة في شهر رمضان تعدل حجة)), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 18359)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 95 (939)، سنن النسائی/ الکبری/ الحج (4227)، سنن ابن ماجہ/المناسک 45 (2993)، مسند احمد (6/405، 406) (حسن) » (اس کے راوی ابراہیم حافظہ کے کمزور ہیں مگر حدیث نمبر (1990) سے اس کو تقویت مل رہی ہے، نیز رمضان میں عمرہ کے ثواب سے متعلق جملہ کے شواہد صحیحین میں بھی ہیں، ہاں عورت کا قول «إني امرأة ... من حجتي؟» صحیح نہیں ہے)
حدیث نمبر: 1989
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقَلِ بْنِ أُمِّ مَعْقَلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقَلٍ ، قَالَتْ : " لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ فَجَعَلَهُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَصَابَنَا مَرَضٌ وَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حَجِّهِ جِئْتُهُ ، فَقَالَ : يَا أُمَّ مَعْقِلٍ ، مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا ؟ قَالَتْ : لَقَدْ تَهَيَّأْنَا فَهَلَكَ أَبُو مَعْقِلٍ وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ هُوَ الَّذِي نَحُجُّ عَلَيْهِ فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ ، فَإِنَّ الْحَجَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَمَّا إِذْ فَاتَتْكِ هَذِهِ الْحَجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ ، فَإِنَّهَا كَحَجَّةٍ ، فَكَانَتْ تَقُولُ : الْحَجُّ حَجَّةٌ وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ ، وَقَدْ قَالَ هَذَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا أَدْرِي أَلِيَ خَاصَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام معقل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کیا تو ہمارے پاس ایک اونٹ تھا لیکن ابومعقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کی راہ میں دے دیا تھا ہم بیمار پڑ گئے ، اور ابومعقل رضی اللہ عنہ چل بسے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حج کو تشریف لے گئے ، جب اپنے حج سے واپس ہوئے تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ام معقل ! کس چیز نے تمہیں ہمارے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلنے سے روک دیا ؟ “ ، وہ بولیں : ہم نے تیاری تو کی تھی لیکن اتنے میں ابومعقل کی وفات ہو گئی ، ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر ہم حج کیا کرتے تھے ، ابومعقل نے اسے اللہ کی راہ میں دے دینے کی وصیت کر دی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسی اونٹ پر سوار ہو کر کیوں نہیں نکلیں ؟ حج بھی تو اللہ کی راہ میں ہے ، لیکن اب تو ہمارے ساتھ تمہارا حج جاتا رہا تم رمضان میں عمرہ کر لو ، اس لیے کہ یہ بھی حج کی طرح ہے “ ، ام معقل رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں حج حج ہے اور عمرہ عمرہ ہے ۱؎ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہی فرمایا اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ حکم میرے لیے خاص تھا ( یا سب کے لیے ہے ) ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی دونوں ایک مرتبہ میں نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون قوله فكانت تقول , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق عنعن, وأصل الحديث صحيح،رواه الترمذي (935) بلفظ : ((عمرة في رمضان تعدل حجة)), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 11857، 18361) (صحیح لغیرہ) » (اس کے راوی محمد بن اسحاق مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے، نیز عیسیٰ لین الحدیث ہیں، لیکن ”رمضان میں عمرہ کا ثواب حج کے برابر ہے“ کے ٹکڑے کے شواہد صحیحین اور دیگر مصادر میں ہیں ، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، ہاں: آخری ٹکڑا : «فكانت تقول إلخ» کا شاہد نہیں ہے، اس لئے ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود 6؍ 230)
حدیث نمبر: 1990
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ لِزَوْجِهَا : أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلِكَ ، فَقَالَ : مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ ، قَالَتْ : أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ ، قَالَ : ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي تَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَإِنَّهَا سَأَلَتْنِي الْحَجَّ مَعَكَ ، قَالَتْ : أَحِجَّنِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : مَا عِنْدِي مَا أُحِجُّكِ عَلَيْهِ ، فَقَالَتْ : أَحِجَّنِي عَلَى جَمَلِكَ فُلَانٍ ، فَقُلْتُ : ذَاكَ حَبِيسٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَحْجَجْتَهَا عَلَيْهِ كَانَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : وَإِنَّهَا أَمَرَتْنِي أَنْ أَسْأَلَكَ مَا يَعْدِلُ حَجَّةً مَعَكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقْرِئْهَا السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ وَبَرَكَاتِهِ وَأَخْبِرْهَا أَنَّهَا تَعْدِلُ حَجَّةً مَعِي يَعْنِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ کیا ، ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : مجھے بھی اپنے اونٹ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں ، وہ کہنے لگی : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کراؤ ، تو انہوں نے کہا : وہ اونٹ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے ، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میری بیوی آپ کو سلام کہتی ہے ، اس نے آپ کے ساتھ حج کرنے کی مجھ سے خواہش کی ہے ، اور کہا ہے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرائیں ، میں نے اس سے کہا : میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں تمہیں حج کراؤں ، اس نے کہا : مجھے اپنے فلاں اونٹ پر حج کرائیں ، میں نے اس سے کہا : وہ تو اللہ کی راہ میں وقف ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو اگر تم اسے اس اونٹ پر حج کرا دیتے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں ہوتا “ ۔ اس نے کہا : اس نے مجھے یہ بھی آپ سے دریافت کرنے کے لیے کہا ہے کہ کون سی چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے سلام کہو اور بتاؤ کہ رمضان میں عمرہ کر لینا میرے ساتھ حج کر لینے کے برابر ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1990
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, صححه ابن خزيمة (3077) والحاكم (1/183، 184) وذكر البيھقي له علة (6/164) ولم أقف عليھا فھي غير قادحة
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود ( تحفة الأشراف: 5374)، وقد أخرجہ: (صحیح البخاری/العمرة 4(1782)، صحیح مسلم/الحج 36 (221) بدون ذکر : ’’أن الحج في سبیل اللہ‘‘۔ (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 1991
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اعْتَمَرَ عُمْرَتَيْنِ : عُمْرَةً فِي ذِي الْقِعْدَةِ ، وَعُمْرَةً فِي شَوَّالٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے : ایک ذی قعدہ میں اور دوسرا شوال میں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس حدیث میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کی مجموعی تعداد کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ان کی مراد یہ ہے کہ ایک سال کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عمرے کئے: ایک ذی قعدہ میں اور ایک شوال میں، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ ایک سال کے اندر دو عمرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہیں کیا ہے، اور حج کے ساتھ والے عمرے کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سارے عمرے ذی قعدہ میں ہوئے ہیں، پھر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا «عمرۃ فی شوّال» کہنا ان کا وہم ہے، اور اگر اسے محفوظ مان لیا جائے تو اس کی تاویل یہ ہوگی اس عمرہ سے مراد عمرہ جعرانہ ہے جو اگرچہ ذی قعدہ ہی میں ہوا ہے، لیکن مکہ سے حنین کے لئے آپ شوال ہی میں نکلے تھے، اور واپسی پر جعرانہ سے احرام باندھ کر یہ عمرہ کیا تھا تو نکلنے کا لحاظ کرکے انہوں نے اس کی نسبت شوال کی طرف کر دی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لكن قوله في شوال يعني ابتداء وإلا فهي كانت في ذي القعدة أيضا , شیخ زبیر علی زئی: حسن, أخرجه البيھقي في دلائل النبوة (5/455) وصححه ابن الملقن في تحفة المحتاج (1058)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 16889) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1992
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : " سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : مَرَّتَيْنِ " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : " لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثًا ، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´مجاہد کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو بار ۱؎ ، اس پر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ابن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کے علاوہ جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ ملایا تھا تین عمرے کئے ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرہ حدیبیہ کو اور اسی طرح حج کے ساتھ والے عمرہ کو شمار نہیں کیا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, أبو إسحاق عنعن, وأصل الحديث متفق عليه (خ 1775 م 1255) بغير ھذا اللفظ, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 7384، 17574) (ضعیف) » (اس کے راوی ابواسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، مگر اس میں مذکور عمروں کی تعداد صحیح ہے)
حدیث نمبر: 1993
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ : عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَةِ ، وَالثَّانِيَةَ حِينَ تَوَاطَئُوا عَلَى عُمْرَةٍ مَنْ قَابِلٍ ، وَالثَّالِثَةَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي قَرَنَ مَعَ حَجَّتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے : ایک عمرہ حدیبیہ کا ، دوسرا وہ عمرہ جسے آئندہ سال کرنے پر اتفاق کیا تھا ، تیسرا عمرہ جعرانہ کا ۱؎ ، اور چوتھا وہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا ۔
وضاحت:
۱؎: ’’جعرانة‘‘: طائف اور مکہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بعد یہیں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1993
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (816 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 7 (816)، سنن ابن ماجہ/المناسک 50 (3003)، (تحفة الأشراف: 6168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/246، 321)، سنن الدارمی/المناسک 39 (1900) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1994
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَهُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ : كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقِعْدَةِ إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : أَتْقَنْتُ مِنْ هَا هُنَا مِنْ هُدْبَةَ ، وَسَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، وَلَمْ أَضْبِطْهُ عُمْرَةً زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ أَوْ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقِعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور وہ تمام ذی قعدہ میں تھے سوائے اس کے جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہاں سے آگے کے الفاظ میں نے ابوالولید سے بھی سنے لیکن انہیں یاد نہیں رکھ سکا ، البتہ ہدبہ کے الفاظ اچھی طرح یاد ہیں کہ : ایک حدیبیہ کے زمانے کا ، یا حدیبیہ کا عمرہ ، دوسرا ذی قعدہ میں قضاء کا عمرہ ، تیسرا عمرہ ذی قعدہ میں جعرانہ کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم فرمایا ، اور چوتھا وہ عمرہ جسے آپ نے اپنے حج کے ساتھ ملایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1994
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1778) صحيح مسلم (1253)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العمرة 3 (1778)، صحیح مسلم/الحج 35 (1253)، سنن الترمذی/الحج 6 (815)، (تحفة الأشراف: 1393)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/256)، سنن الدارمی/المناسک 3 (1828) (صحیح) »