کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: رمی جمرات کا بیان۔
حدیث نمبر: 1966
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَسْتُرُهُ ، فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ : فَقَالُوا : الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَازْدَحَمَ النَّاسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ، وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا ، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے ( یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے ) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3028،3031), يزيد بن أبي زياد ضعيف, والجمھور علي تضعيف حديثه (ھدي الساري ص 459), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 75
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/المناسک 63 (3028)، ( تحفة الأشراف: 18306)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/503، 5/270، 379، 6/379) (حسن) »
حدیث نمبر: 1967
حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ ، عَنْ أُمِّهِ ، قَالَتْ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ رَاكِبًا ، وَرَأَيْتُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ حَجَرًا فَرَمَى وَرَمَى النَّاسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں ، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جمرات کی رمی سواری پر درست ہے، لیکن موجودہ حالات میں منتظمین حج کے احکام کی روشنی میں مناسک حج، قربانی، اور رمی جمرات وغیرہ کے کام انجام دینا چاہئے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (1966), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 18306) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1968
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِإِسْنَادِهِ فِي مِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ ، زَادَ : " وَلَمْ يَقُمْ عِنْدَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد سے اسی طریق سے اسی حدیث کے ہم مثل مروی ہے` اس میں «ولم يقم عندها» ” اور اس کے پاس نہیں ٹھہرے “ کا جملہ زائد ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (1966), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم : 1966، ( تحفة الأشراف: 18306) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1969
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ " كَانَ يَأْتِي الْجِمَارَ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا ، وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ رمی جمرات کے لئے پیدل چل کر آنا افضل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1969
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه البيھقي (5/131 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 7727)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 63 (899)، مسند احمد (2/114، 138، 156) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1970
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ، يَقُولُ : " لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1297)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 53 (1297)، سنن النسائی/الحج 220 (3064)، ( تحفة الأشراف: 2804)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 59 (894)، سنن ابن ماجہ/المناسک 75 (3053)، مسند احمد (3/313، 319، 400)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1937) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1971
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ ضُحًى ، فَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی سواری پر بیٹھ کر یوم النحر کو چاشت کے وقت رمی کرتے دیکھا پھر اس کے بعد جو رمی کی ( یعنی گیارہ ، بارہ اور تیرہ کو ) تو وہ زوال کے بعد کی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1971
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1299)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/ الحج 53 (1299)، سنن الترمذی/ الحج 59 (894)، سنن النسائی/ الحج 221 (3065)، سنن ابن ماجہ/ 75 المناسک (3053)، (تحفة الأشراف: 2795)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 399)، دی/ المناسک 58 (1937) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1972
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ وَبَرَةَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ : مَتَى أَرْمِي الْجِمَارَ ؟ قَالَ : إِذَا رَمَى إِمَامُكَ فَارْمِ ، فَأَعَدْتُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ ، فَقَالَ : كُنَّا نَتَحَيَّنُ زَوَالَ الشَّمْسِ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ رَمَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وبرہ کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کنکریاں کب ماروں ؟ آپ نے کہا : جب تمہارا امام کنکریاں مارے تو تم بھی مارو ، میں نے پھر یہی سوال کیا ، انہوں نے کہا : ہم سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے تھے تو جب سورج ڈھل جاتا تو ہم کنکریاں مارتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1746)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 134 (1746)، ( تحفة الأشراف: 8554) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1973
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ،عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مِنًى فَمَكَثَ بِهَا لَيَالِيَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، كُلُّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ، وَيَقِفُ عِنْدَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ وَيَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلَا يَقِفُ عِنْدَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوم النحر ) کے آخری حصہ میں جس وقت ظہر پڑھ لی طواف افاضہ کیا ، پھر منیٰ لوٹے اور تشریق کے دنوں تک وہاں ٹھہرے رہے ، جب سورج ڈھل جاتا تو ہر جمرے کو سات سات کنکریاں مارتے ، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے ، اور پہلے اور دوسرے جمرے پر دیر تک ٹھہرتے ، روتے ، گڑگڑاتے اور دعا کرتے اور تیسرے جمرے کو کنکریاں مار کر اس کے پاس نہیں ٹھہرتے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح إلا قوله حين صلى الظهر فهو منكر , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (2676), محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند ابن حبان (1013)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 17523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/90) (صحیح) » (لیکن « صلی الظہر» - ظہر پڑھی- کا جملہ صحیح نہیں ہے)
حدیث نمبر: 1974
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " لَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى جَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ وَ مِنًى عَنْ يَمِينِهِ وَرَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ " ، وَقَالَ : هَكَذَا رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب وہ جمرہ کبری ( جمرہ عقبہ ) کے پاس آئے تو بیت اللہ کو اپنے بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں جانب کیا اور جمرے کو سات کنکریاں ماریں ، اور کہا : اسی طرح اس ذات نے بھی کنکریاں ماری تھیں جس پر سورۃ البقرہ نازل کی گئی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1748) صحيح مسلم (1296)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 135 (1747)، 138 (1750)، صحیح مسلم/الحج 50 (1296)، سنن الترمذی/الحج 64 (901)، سنن النسائی/المناسک 226 (3073، 3075)، سنن ابن ماجہ/المناسک 64 (3030)، ( تحفة الأشراف: 9382)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/374، 408، 415، 427، 430، 432، 436، 456، 458) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1975
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ ، يَرْمُونَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ يَرْمُونَ الْغَدَ وَمِنْ بَعْدِ الْغَدِ بِيَوْمَيْنِ وَيَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کے چرواہوں کو ( منیٰ میں ) رات نہ گزارنے کی رخصت دی اور یہ کہ وہ یوم النحر کو رمی کریں ، پھر اس کے بعد والے دن یعنی گیارہویں کو گیارہویں اور بارہویں دونوں دنوں کی رمی کریں ، اور پھر روانگی کے دن ( تیرہویں کو ) رمی کریں گے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (955 وسنده صحيح) والنسائي (3070 وسنده صحيح) وابن ماجه (3037 وسنده صحيح، 3036) وصححه ابن خزيمة (2975 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 108 (954 و 955)، سنن النسائی/الحج 225 (307)، سنن ابن ماجہ/المناسک 67 (3036، 3037)، (تحفة الأشراف: 5030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 72 (218)، مسند احمد (5/450)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1938) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1976
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَمُحَمَّدُ ابْنَيْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِلرِّعَاءِ أَنْ يَرْمُوا يَوْمًا وَيَدَعُوا يَوْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہوں کو رخصت دی کہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن ناغہ کریں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1976
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1975)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 5030) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1977
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ ، يَقُولُ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجِمَارِ ، قَالَ : " مَا أَدْرِي أَرَمَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسِتٍّ أَوْ بِسَبْعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابومجلز کہتے ہیں کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رمی جمرات کا حال دریافت کیا تو انہوں نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ کنکریاں ماریں یا سات ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو معلوم نہ ہو سکا تھا، دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات سے ہر جمرے کو س ات کنکریاں مارنا ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1977
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه النسائي (3080 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 227 (3080)، ( تحفة الأشراف: 6541)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/372) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1978
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَمَى أَحَدُكُمْ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَقَدْ حَلَّ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا النِّسَاءَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ ، الْحَجَّاجُ لَمْ يَرَ الزُّهْرِيَّ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی جمرہ عقبہ کی رمی کر لے تو اس کے لیے سوائے عورتوں کے ہر چیز حلال ہے “ ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث ضعیف ہے ، حجاج نے نہ تو زہری کو دیکھا ہے اور نہ ہی ان سے سنا ہے ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: بیویوں سے صحبت یا بوس وکنار اس وقت جائز ہو گا جب حاجی طواف زیارت سے فارغ ہو جائے۔
۲؎: مسند احمد کی سند میں زہری کی جگہ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم ہیں حجاج بن أرطاۃ کا ان سے سماع ثابت ہے، نیز حدیث کے دیگر شواہد بھی ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1978
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحجاج بن أرطاة ضعيف مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 76
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 17926)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/143) (صحیح) » (متابعات اور شواہد سے تقویت پا کر یہ روایت صحیح ہے)