کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اہل مکہ کے لیے قصر نماز کا بیان۔
حدیث نمبر: 1965
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ وَكَانَتْ أُمُّهُ تَحْتَ عُمَرَ فَوَلَدَتْ لَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : حَارِثَةُ بْنُ خُزَاعَةَ وَدَارُهُمْ بِمَكَّةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابواسحاق کہتے ہیں کہ` مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی ، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے ، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: محقق علماء کا قول یہ ہے کہ اہل مکہ بھی منیٰ اور عرفات میں قصر کریں گے، یہ حج کے مسائل میں سے ہے، یہاں مسافر اور مقیم کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1083) صحيح مسلم (696)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 2 (1083)، والحج 84 (1656)، صحیح مسلم/المسافرین 2 (696)، سنن الترمذی/الحج 52 (882)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 2 (1446)، ( تحفة الأشراف: 3284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/306) (صحیح) »