حدیث نمبر: 1952
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي بَكْرٍ ، قَالَا : " رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن ( بارہویں ذی الحجہ کو ) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے ، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دیا ۔
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ وَكَانَتْ رَبَّةُ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَتْ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ ، فَقَالَ : " أَيُّ يَوْمٍ هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَلَيْسَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ ؟ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَكَذَلِكَ قَالَ عَمُّ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ : " إِنَّهُ خَطَبَ أَوْسَطَ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں` مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں ( جس میں اصنام ہوتے تھے ) ، وہ کہتی ہیں : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ ( ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ ) کو خطاب کیا اور پوچھا : ” یہ کون سا دن ہے ؟ “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے “ ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا ۔
وضاحت:
۱؎: بارہویں ذی الحجہ کو یوم الرؤوس کہا جاتا تھا کیونکہ لوگ اپنی قربانی کے جانوروں کے سر اسی دن کھاتے تھے۔