حدیث نمبر: 1920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَرَدِيفُهُ أُسَامَةُ ، وَقَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ ، فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ " ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا ، زَادَ وَهْبٌ : ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ ، وَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ ، فَعَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ " ، قَالَ : فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا حَتَّى أَتَى مِنًى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ، آپ پر اطمینان اور سکینت طاری تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف اسامہ رضی اللہ عنہ تھے ، آپ نے فرمایا : ” لوگو ! اطمینان و سکینت کو لازم پکڑو اس لیے کہ گھوڑوں اور اونٹوں کا دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے انہیں ( گھوڑوں اور اونٹوں کو ) ہاتھ اٹھائے دوڑتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمع ( مزدلفہ ) آئے ، ( وہب کی روایت میں اتنا زیادہ ہے ) : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو بٹھایا اور فرمایا : ” لوگو ! گھوڑوں اور اونٹوں کو دوڑانا نیکی نہیں ہے تم اطمینان اور سکینت کو لازم پکڑو “ ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : پھر میں نے کسی اونٹ اور گھوڑے کو اپنے ہاتھ اٹھائے ( دوڑتے ) نہیں دیکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ آئے ۔
حدیث نمبر: 1921
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح . وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، قُلْتُ : أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ النَّاسُ فِيهِ لِلْمُعَرَّسِ فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ ثُمَّ بَالَ ، وَمَا قَالَ زُهَيْرٌ : أَهْرَاقَ الْمَاءَ ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةُ ، قَالَ : الصَّلَاةُ أَمَامَكَ ، قَالَ : رَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ وَصَلَّى ، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ " . زَادَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ ؟ قَالَ : رَدِفَهُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلَيَّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کریب کہتے ہیں کہ` میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا : جس شام کو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہو کر آئے تھے آپ نے کیا کیا کیا ؟ وہ بولے : ہم اس گھاٹی میں آئے جہاں لوگ اپنے اونٹ رات کو قیام کے لیے بٹھاتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی بیٹھا دی ، پھر پیشاب کیا ، ( زہیر نے یہ نہیں کہا کہ پانی بہایا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا اور وضو کیا ، جس میں زیادہ مبالغہ نہیں کیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نماز ، ( پڑھی جائے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز آگے چل کر ( پڑھیں گے ) “ ۔ اسامہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے یہاں تک کہ مزدلفہ آئے ، وہاں آپ نے مغرب پڑھی پھر لوگوں نے اپنی سواریاں اپنے ٹھکانوں پر بٹھائیں یہاں تک کہ عشاء کی اقامت ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی ، پھر لوگوں نے اونٹوں سے اپنے بوجھ اتارے ، ( محمد کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ کریب کہتے ہیں ) پھر میں نے پوچھا : صبح ہوئی تو آپ لوگوں نے کیسے کیا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہوئے ، اور میں پیدل قریش کے لوگوں کے ساتھ ساتھ چلا ۔
حدیث نمبر: 1922
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : ثُمَّ أَرْدَفَ أُسَامَةَ فَجَعَلَ يُعْنِقُ عَلَى نَاقَتِهِ وَالنَّاسُ يَضْرِبُونَ الْإِبِلَ يَمِينًا وَشِمَالًا لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِمْ ، وَيَقُولُ : السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ ، وَدَفَعَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` پھر ( ارکان عرفات سے فراغت کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا اور درمیانی چال سے اونٹ ہانکنے لگے ، لوگ دائیں اور بائیں اپنے اونٹوں کو مار رہے تھے آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے : ” لوگو ! اطمینان سے چلو “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے اس وقت لوٹے جب سورج ڈوب گیا ۔
حدیث نمبر: 1923
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَأَنَا جَالِسٌ ، كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حِينَ دَفَعَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " ، قَالَ هِشَامٌ : النَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ کہتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ` اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں عرفات سے لوٹتے وقت کیسے چلتے تھے ؟ فرمایا : تیز چال چلتے تھے ، اور جب راستہ پا جاتے تو دوڑتے ۔ ہشام کہتے ہیں : «نص» ، «عنق» سے بھی زیادہ تیز چال کو کہتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1924
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا وَقَعَتِ الشَّمْسُ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا جب سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے ۔
حدیث نمبر: 1925
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ ، يَقُولُ : " دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ فَتَوَضَّأَ ، وَلَمْ يُسْبِغْ الْوُضُوءَ ، قُلْتُ لَهُ : الصَّلَاةُ ، فَقَالَ :الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کی روایت ہے کہ` انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لوٹے جب گھاٹی میں آئے تو اترے ، پیشاب کیا اور وضو کیا لیکن بھرپور وضو نہیں کیا ، میں نے آپ سے عرض کیا : نماز ( کا وقت ہو گیا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز آگے چل کر پڑھیں گے “ ، پھر آپ سوار ہوئے جب مزدلفہ پہنچے تو اترے وضو کیا اور اچھی طرح سے وضو کیا ، پھر نماز کی تکبیر کہی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب پڑھی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے قیام گاہ میں بٹھایا پھر عشاء کی اقامت ہوئی تو آپ نے عشاء پڑھی اور درمیان میں کچھ نہیں پڑھا ۔
حدیث نمبر: 1925M
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جناب شرید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( عرفات سے ) روانہ ہوا تھا ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں نے زمین کو نہیں چھوا حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے ۔