کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: عرفات میں وقوف (ٹھہرنے) کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1919
حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ : " أَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ الْأَنْصَارِيُّ وَنَحْنُ بِعَرَفَةَ فِي مَكَانٍ يُبَاعِدُهُ عَمْرُو عَنِ الْإِمَامِ ، فَقَالَ : أَمَا إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ ، يَقُولُ لَكُمْ : قِفُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ ، فَإِنَّكُمْ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یزید بن شیبان کہتے ہیں` ہمارے پاس ابن مربع انصاری آئے ہم عرفات میں تھے ( وہ ایسی جگہ تھی جسے عمرو ( عمرو بن عبداللہ ) امام سے دور سمجھتے تھے ) ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھیجا ہوا قاصد ہوں ، آپ کا فرمان ہے کہ اپنے مشاعر ( نشانیوں کی جگہوں ) پر ٹھہرو ۱؎ اس لیے کہ تم اپنے والد ابراہیم کے وارث ہو ۔
وضاحت:
۱؎: مشاعر سے مراد مناسک حج کے مقامات اور قدیم مواقف ہیں، یعنی ان جگہوں پر تم بھی ٹھہرو کیونکہ ان جگہوں پر وقوف تمہارے باپ ابراہیم کے زمانہ ہی سے بطور وراثت چلا آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1919
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (2595), أخرجه الترمذي (883 وسنده صحيح) والنسائي (3017 وسنده حسن) وابن ماجه (3011 وسنده صحيح) سفيان بن عيينة صرح بالسماع عند الحميدي (577)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 53 (883)، سنن ابن ماجہ/المناسک 55 (3011) سنن النسائی/ الحج 202 (3017)، ( تحفة الأشراف: 15526)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/137) (صحیح) »