کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مکہ سے منیٰ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1911
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ وَالْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ بِمِنًى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو ظہر اور یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کو فجر منیٰ میں پڑھی ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وله شواھد عند ابن ماجه (3005 وسنده حسن) وانظر الحديث الآتي (1913)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 50 (880)، ( تحفة الأشراف: 6465)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 296، 297، 303)، دی/المناسک 46 (1913) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1912
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رَفِيعٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قُلْتُ : أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ عَقَلْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ؟ فَقَالَ : بِمِنًى ، قُلْتُ : فَأَيْنَ صَلَّى الْعَصْرَ يَوْمَ النَّفْرِ ؟ قَالَ : بِالْأَبْطَحِ ، ثُمَّ قَالَ : افْعَلْ كَمَا يَفْعَلُ أُمَرَاؤُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالعزیز بن رفیع کہتے ہیں کہ` میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا : مجھے آپ وہ بتائیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو یاد ہو کہ آپ نے ظہر یوم الترویہ ( آٹھویں ذی الحجہ ) کو کہاں پڑھی ؟ انہوں نے کہا : منیٰ میں ، میں نے عرض کیا تو لوٹنے کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کہاں پڑھی ؟ فرمایا : ابطح میں ، پھر کہا : تم وہی کرو جو تمہارے امراء کریں ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس طرح کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں امیر کی مخالفت نہ کرو کیوں کہ ان کی مخالفت بسا اوقات فتنوں اور فساد کا موجب ہوتی ہے، خصوصاً جب کہ امراء ظالم ہوں ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع تو ہر حال میں بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1912
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1763) صحيح مسلم (1309)
تخریج حدیث « * تخريج:صحیح البخاری/الحج 83 (1653)، 146 (1763)، صحیح مسلم/الحج 58 (1308)، سنن الترمذی/الحج 116 (964)، سنن النسائی/الحج 190 (3000)، (تحفة الأشراف: 988)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/100)، سنن الدارمی/المناسک 46 (1914) (صحیح) »