کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: صفا اور مروہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 1901
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ حَدِيثُ السِّنِّ : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ؟ فَمَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ شَيْئًا أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : كَلَّا ، لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ ، كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْأَنْصَارِ ، كَانُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ وَكَانَتْ مَنَاةُ حَذْوَ قُدَيْدٍ وَكَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ ، سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ` میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا اور میں ان دنوں کم سن تھا : مجھے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إن الصفا والمروة من شعائر الله» کے سلسلہ میں بتائیے ، میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : ” ہرگز نہیں ، اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہے ہو تو اللہ کا قول «فلا جناح عليه أن يطوف بهما» کے بجائے «فلا جناح عليه أن لا يطوف بهما» ” تو اس پر ان کی سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہیں “ ہوتا ، یہ آیت دراصل انصار کے بارے میں اتری ، وہ مناۃ ( یعنی زمانہ جاہلیت کا بت ) کے لیے حج کرتے تھے اور مناۃ قدید ۱؎ کے سامنے تھا ، وہ لوگ صفا و مروہ کے بیچ سعی کرنا برا سمجھتے تھے ، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ۲؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: ’’مناة قديد‘‘: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک دیہات کا نام ہے۔
۲؎: بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں (سورة البقرة: ۱۵۸)
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1901
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1790) صحيح مسلم (1277)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 79 (1643)، والعمرة10 (1790)، وتفسیرالبقرة 21(4495)، وتفسیر النجم 3 (4861)، سنن النسائی/الحج 168 (2971)، ( تحفة الأشراف: 16820، 17151)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 43 (1277)، سنن الترمذی/تفسیر سورة البقرة (2969)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2986)، موطا امام مالک/الحج 42 (129)، مسند احمد (6/144، 162، 227) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1902
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَهُ مَنْ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ " ، فَقِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ : أَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ ؟ قَالَ : لَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی ، آپ کے ساتھ کچھ ایسے لوگ تھے جو آپ کو آڑ میں لیے ہوئے تھے ، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1902
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح خ ولـ م جملة الدخول فقط , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1600) صحيح مسلم (1332)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 53 (1600)، سنن ابن ماجہ/المناسک 44 (2990)، ( تحفة الأشراف: 5155، 5156)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 68 (1332)، مسند احمد (4/353، 355، 381)، سنن الدارمی/المناسک 77 (1963) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1903
حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، بِهَذَا الْحَدِيثِ ، زَادَ : " ثُمَّ أَتَى الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ فَسَعَى بَيْنَهُمَا سَبْعًا ثُمَّ حَلَقَ رَأْسَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : پھر آپ صفا و مروہ آئے اور ان کے درمیان سات بار سعی کی ، پھر اپنا سر منڈایا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1903
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح دون الحلق , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شريك القاضي عنعن وتفرد بقوله ’’ ثم حلق رأسه ‘‘ وباقي الحديث صحيح, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 74
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 5155، 5156) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1904
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بَيْنَ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةِ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، إِنِّي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ ، قَالَ : " إِنْ أَمْشِ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَإِنْ أَسْعَ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ` صفا و مروہ کے درمیان عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا : ابوعبدالرحمٰن ! میں آپ کو ( عام چال چلتے ) دیکھتا ہوں جب کہ لوگ دوڑتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اگر میں عام چال چلتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے دیکھا ہے اور اگر میں دوڑ کر کرتا ہوں تو اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سعی ( دوڑتے ) کرتے دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا شخص ہوں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1904
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, زھير بن معاوية سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه وكثير بن جمھان حسن الحديث وثقه الجمھور
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 39 (864)، سنن النسائی/الحج 174 (2979)، سنن ابن ماجہ/المناسک 43 (2988)، ( تحفة الأشراف: 7373، 7379)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/53) (صحیح) »