کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: حجر اسود کو چومنا۔
حدیث نمبر: 1873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اسے چوما ، اور کہا : میں جانتا ہوں تو ایک پتھر ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے نہ چومتا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: حجر اسود کے سلسلے میں طواف کرنے والے شخص کو اختیار ہے کہ تین باتوں چومنا، چھونا ہاتھ یا چھڑی سے، (اشارہ کرنا) میں سے جو ممکن ہو کرلے ہر ایک کافی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1873
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1597) صحيح مسلم (1270)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 50 (1597)، 57 (1605)، 60 (1610)، صحیح مسلم/الحج 41 (1270)، سنن الترمذی/الحج 37 (860)، سنن النسائی/الحج 147 (2940)، ( تحفة الأشراف: 10473)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2943)، موطا امام مالک/الحج 36 (115)، مسند احمد (1/21، 26، 34، 35، 39، 46، 51، 53، 54)، سنن الدارمی/المناسک 42 ( 1906) (صحیح) »