کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: لبیک پکارنا کب بند کرے؟
حدیث نمبر: 1815
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «حتى رمى جمرة العقبة» سے احمد اور اسحاق نے استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنا جمرہ عقبہ کی رمی پوری کر لینے کے بعد موقوف کیا جائے گا، لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں «لم يزل يلبي حتى بلغ الجمرة» کے الفاظ آئے ہیں جس سے جمہور علماء نے استدلال کیا ہے کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی پہلی کنکری کے ساتھ ہی تلبیہ بند کر دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1815
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (1685) صحيح مسلم (1280)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الحج 22 (1543)، 93(1670)، 101(1685)، صحیح مسلم/الحج 45 (1280)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، سنن النسائی/الحج 216 (3057)، 228 (3081)، 229 (3084)، ( تحفة الأشراف: 11050)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 69 (3040)، مسند احمد (1/210، 211، 212، 213، 214)، سنن الدارمی/المناسک 60(1943) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ،عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ مِنَّا الْمُلَبِّي وَمِنَّا الْمُكَبِّرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ہم صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ سے عرفات کی طرف نکلے ہم میں سے کچھ لوگ تلبیہ پکار رہے تھے اور کچھ «الله أكبر» کہہ رہے تھے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1816
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1284)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 46 (1284)، ( تحفة الأشراف: 7271)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 191 (3001)، مسند احمد (2/22)، سنن الدارمی/المناسک 48 (1918) (صحیح) »