کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: آدمی حج کا احرام باندھے پھر اسے عمرہ میں بدل دے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1807
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ كَانَ يَقُولُ فِيمَنْ حَجَّ ثُمَّ فَسَخَهَا بِعُمْرَةٍ : " لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ إِلَّا لِلرَّكْبِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلیم بن اسود سے روایت ہے کہ` ابوذر رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں جو حج کی نیت کرے پھر اسے عمرے سے فسخ کر دے کہا کرتے تھے : یہ صرف اسی قافلہ کے لیے ( مخصوص ) تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ کا اپنا خیال تھا نہ کہ واقعہ، جیسا کہ پچھلی حدیثوں سے واضح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1807
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح موقوف شاذ , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق عنعن, ولأصل الحديث شواھد عند مسلم (1224) والحميدي (133،134) وغيرهما و فيھا غنية عن ھذا الحديث الضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 71
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 11920)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 23 (1224)، سنن النسائی/الحج 77 (2812)، سنن ابن ماجہ/المناسک 42 (2985) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1808
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةٌ ، أَوْ لِمَنْ بَعْدَنَا ؟ قَالَ : " بَلْ لَكُمْ خَاصَّةٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! حج کا ( عمرے کے ذریعے ) فسخ کرنا ہمارے لیے خاص ہے یا ہمارے بعد والوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ یہ تمہارے لیے خاص ہے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1808
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (2984 وسنده حسن) الحارث بن بلال حسن الحديث وثقه الحاكم والذهبي وابن الجارود
تخریج حدیث « سنن النسائی/الحج 77 (2810)، سنن ابن ماجہ/المناسک 42 (2984)، ( تحفة الأشراف: 2027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/369)، سنن الدارمی/المناسک 37 (1897) (ضعیف) » (اس کے راوی حارث لین الحدیث ہیں، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے، اس لئے منکر ہے)