کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ہدی کا جانور اپنے مقام (مکہ) پر پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 1762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَاجِيَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مَعَهُ بِهَدْيٍ ، فَقَالَ : " إِنْ عَطِبَ مِنْهَا شَيْءٌ فَانْحَرْهُ ، ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهُ فِي دَمِهِ ، ثُمَّ خَلِّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہدی بھیجا اور فرمایا : ” اگر ان میں سے کوئی مرنے لگے تو اس کو نحر کر لینا پھر اس کی جوتی اسی کے خون میں رنگ کر اسے لوگوں کے واسطے چھوڑ دینا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1762
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (2642), أخرجه الترمذي (910 وسنده صحيح) وابن ماجه (3106 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2577 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الحج 71 (910)، سنن النسائی/الکبری /الأطعمة (6639)، سنن ابن ماجہ/المناسک 101 (3106)، ( تحفة الأشراف: 11581)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 47(148)، مسند احمد (4/334)، سنن الدارمی/المناسک 66 (1950) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1763
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُسَدَّدٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ قَالَ : " تَنْحَرُهَا ، ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ، ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ، أَوْ قَالَ : مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ : " وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ " ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ : " ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا مَكَانَ اضْرِبْهَا " . قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں اسلمی کو ہدی کے اٹھارہ اونٹ دے کر بھیجا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر ان میں سے کوئی ( چلنے سے ) عاجز ہو جائے تو آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسے نحر کر دینا پھر اس کے جوتے کو اسی کے خون میں رنگ کر اس کی گردن کے ایک جانب چھاپ لگا دینا اور اس میں سے کچھ مت کھانا ۱؎ اور نہ ہی تمہارے ساتھ والوں میں سے کوئی کھائے ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا : «من أهل رفقتك» ” یعنی تمہارے رفقاء میں سے کوئی نہ کھائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالوارث کی حدیث میں «اضربها» کے بجائے «ثم اجعله على صفحتها» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ کو کہتے سنا : جب تم نے سند اور معنی درست کر لیا تو تمہیں کافی ہے ۔
وضاحت:
۱؎: تاکہ یہ الزام نہ آئے کہ ہدی کے جانور کو کھانا چاہتا تھا، اس لئے نحر (ذبح) کر ڈالا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1763
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1325)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الحج 66 (1325)، سنن النسائی/الکبری /الحج (4136)، وانظر أیضا ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: 6503)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 244، 279) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1764
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، وَيَعْلَى ابْنَا عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ فَنَحَرَ ثَلَاثِينَ بِيَدِهِ ، وَأَمَرَنِي فَنَحَرْتُ سَائِرَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ہدی کے اونٹوں کا نحر کیا تو اپنے ہاتھ سے تیس ( ۳۰ ) اونٹ نحر کئے پھر مجھے حکم دیا تو باقی سارے میں نے نحر کئے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب المناسك / حدیث: 1764
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: منكر , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق سمعه من رجل،مجهول،عن ابن أبي نجيح به(أحمد 1/ 260), وابن أبي نجيح مدلس, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 10221) (منکر) » (یہ روایت صحیح مسلم کی روایت کے خلاف ہے جس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (63) اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے، باقی علی رضی اللہ عنہ نے کئے)