حدیث نمبر: 1701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا ، فَقَالَا لِيَ : اطْرَحْهُ ، فَقُلْتُ : لَا ، وَلَكِنْ إِنْ وَجَدْتُ صَاحِبَهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَحَجَجْتُ فَمَرَرْتُ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَسَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالَ : وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا " ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا " ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا حَوْلًا " ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : لَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا ، فَقَالَ : " احْفَظْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَوِعَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا " ، وَقَالَ : وَلَا أَدْرِي أَثَلَاثًا قَالَ عَرِّفْهَا أَوْ مَرَّةً وَاحِدَةً .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے زید بن صوحان اور سلیمان بن ربیعہ کے ساتھ جہاد کیا ، مجھے ایک کوڑا پڑا ملا ، ان دونوں نے کہا : اسے پھینک دو ، میں نے کہا : نہیں ، بلکہ اگر اس کا مالک مل گیا تو میں اسے دے دوں گا اور اگر نہ ملا تو خود میں اپنے کام میں لاؤں گا ، پھر میں نے حج کیا ، میرا گزر مدینے سے ہوا ، میں نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، تو انہوں نے بتایا کہ مجھے ایک تھیلی ملی تھی ، اس میں سو ( ۱۰۰ ) دینار تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نے فرمایا : ” ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ “ ، چنانچہ میں ایک سال تک اس کی پہچان کراتا رہا ، پھر آپ کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال اور پہچان کراؤ “ ، میں نے ایک سال اور پہچان کرائی ، اس کے بعد پھر آپ کے پاس آیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال پھر پہچان کراؤ “ ، چنانچہ میں ایک سال پھر پہچان کراتا رہا ، پھر آپ کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : مجھے کوئی نہ ملا جو اسے جانتا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی تعداد یاد رکھو اور اس کا بندھن اور اس کی تھیلی بھی ، اگر اس کا مالک آ جائے ( تو بہتر ) ورنہ تم اسے اپنے کام میں لے لینا “ ۔ شعبہ کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ سلمہ نے «عرفها» تین بار کہا تھا یا ایک بار ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2426) صحيح مسلم (1723)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/اللقطة 1 (2426)، 10 (2437)، صحیح مسلم/اللقطة 1 (1723)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1374)، سنن النسائی/الکبری/ اللقطة (5820، 5821)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2506)، ( تحفة الأشراف :28)، وقدأخرجہ: مسند احمد (5/126، 127) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1702
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ بِمَعْنَاهُ ، قَالَ : عَرِّفْهَا حَوْلًا ، وَقَالَ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، قَالَ : فَلَا أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی شعبہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` وہ کہتے ہیں : «عرفها حولا» تین بار کہا ، البتہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ نے اسے ایک سال میں کرنے کے لیے کہا یا تین سال میں ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1702
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2426) صحيح مسلم (1723)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف :28) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1703
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، قَالَ فِي التَّعْرِيفِ : " قَالَ : عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، وَقَالَ : اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا " ، زَادَ : " فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَيْسَ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ إِلَّا حَمَّادٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، يَعْنِي فَعَرَفَ عَدَدَهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حماد کہتے ہیں سلمہ بن کہیل نے ہم سے اسی سند سے اور اسی مفہوم کی حدیث بیان کی` اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( لقطہٰ کی ) پہچان کرانے کے سلسلے میں فرمایا : ” دو یا تین سال تک ( اس کی پہچان کراؤ ) “ ، اور فرمایا : ” اس کی تعداد جان لو اور اس کی تھیلی اور اس کے سر بندھن کی پہچان کر لو “ ، اس میں اتنا مزید ہے : ” اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تعداد اور سر بندھن بتا دے تو اسے اس کے حوالے کر دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «فعرف عددها» کا کلمہ اس حدیث میں سوائے حماد کے کسی اور نے نہیں ذکر کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1703
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح والمعتمد التعريف سنة واحدة كما في حديث زيد بن خالد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : 1701، ( تحفة الأشراف :28) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1704
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، قَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً ، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ، فَقَالَ : " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ ، وَقَالَ : " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( پڑی ہوئی چیز ) کے بارے میں پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ ، پھر اس کی تھیلی اور سر بندھن کو پہچان لو ، پھر اسے خرچ کر ڈالو ، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو “ ، اس نے کہا : اللہ کے رسول ! گمشدہ بکری کو ہم کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو پکڑ لو ، اس لیے کہ وہ یا تو تمہارے لیے ہے ، یا تمہارے بھائی کے لیے ، یا بھیڑیئے کے لیے “ ، اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! گمشدہ اونٹ کو ہم کیا کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار سرخ ہو گئے یا آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا : ” تمہیں اس سے کیا سروکار ؟ اس کا جوتا ۱؎ اور اس کا مشکیزہ اس کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے “ ۔
وضاحت:
۱؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے، اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور بار بار پانی پینے کی ضرورت نہیں محسوس کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیے وغیرہ کا بھی خوف نہیں کہ وہ خود اپنا دفاع کر لیتا ہے، اس لئے اسے پکڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1704
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2436) صحيح مسلم (1722)
حدیث تخریج « صحیح البخاری/العلم 28 (91)، المساقاة 12 (2372)، اللقطة 2 (2427)، 3 (2428)، 4 (2429)، 9 (2436)، 11 (2438)، الطلاق 22 (5292مرسلاً)، الأدب 75 (6112)، صحیح مسلم/اللقطة 31 (1722)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1372)، سنن النسائی/ الکبری /اللقطة (5814، 5815، 5816)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 1 (2504)، ( تحفة الأشراف : 3763)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة 38 (46، 47)، مسند احمد (4/115، 116، 117) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1705
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، زَادَ : " سِقَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ " ، وَلَمْ يَقُلْ : خُذْهَا فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ ، وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ : " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا فَشَأْنُكَ بِهَا " ، وَلَمْ يَذْكُرْ : اسْتَنْفِقْ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ وَ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ وَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ رَبِيعَةَ مِثْلَهُ ، لَمْ يَقُولُوا : خُذْهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی مالک سے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے` البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ : ” وہ اپنی سیرابی کے لیے پانی پر آ جاتا ہے اور درخت کھا لیتا ہے “ ، اس روایت میں گمشدہ بکری کے سلسلے میں «خذها» ( اسے پکڑ لو ) کا لفظ نہیں ہے ، البتہ لقطہٰ کے سلسلے میں فرمایا : ” ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو بہتر ہے ورنہ تم خود اس کو استعمال کر لو “ ، اس میں «استنفق» کا لفظ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ثوری ، سلیمان بن بلال اور حماد بن سلمہ نے اسے ربیعہ سے اسی طرح روایت کیا ہے لیکن ان لوگوں نے «خذها» کا لفظ نہیں کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه البخاري (2429) ومسلم (1722) وانظر الحديث السابق (1704)
حدیث تخریج « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف :3763) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1706
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ،عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے تو اسے اس کے حوالہ کر دو ورنہ اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان رکھو اور پھر اسے کھا جاؤ ، اب اگر اس کا ڈھونڈھنے والا آ جائے تو اسے ( اس کی قیمت ) ادا کر دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1706
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح م وفي إسناده زيادة عن أبي النضر عن بسر وهو الصواب , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1722)
حدیث تخریج « صحیح مسلم/اللقطة 1(1722)، سنن الترمذی/الأحکام 35 (1373)، سنن النسائی/الکبری (5811)، سنن ابن ماجہ/ اللقطة 1 (507)، (تحفة الأشراف :3748)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/116، 5/193) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1707
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ رَبِيعَةَ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : "تُعَرِّفُهَا حَوْلًا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا دَفَعْتَهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا عَرَفْتَ وِكَاءَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ أَفِضْهَا فِي مَالِكَ فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( لقطے کے متعلق ) پوچھا گیا پھر راوی نے ربیعہ کی طرح حدیث ذکر کی اور کہا : لقطے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال تک تم اس کی تشہیر کرو ، اب اگر اس کا مالک آ جائے تو تم اسے اس کے حوالہ کر دو ، اور اگر نہ آئے تو تم اس کے ظرف اور سر بندھن کو پہچان لو پھر اسے اپنے مال میں ملا لو ، پھر اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے اس کو دے دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1707
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديث السابق (1704) ورواه إبراهيم بن طھمان في المشيخة (4 وسنده حسن/ معاذ)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (1704)، ( تحفة الأشراف :3763) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1708
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةَ ، بِإِسْنَادِ قُتَيْبَةَ وَمَعْنَاهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَعَدَدَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " ،وقَالَ حَمَّادٌ أَيْضًا : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ الَّتِي زَادَ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فِي حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَ رَبِيعَةَ : " إِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ " لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ ، فَعَرَفَ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ، وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيْضًا ، قَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً " ، وَحَدِيثُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَيْضًا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَرِّفْهَا سَنَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´یحییٰ بن سعید اور ربیعہ سے قتیبہ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` اس میں اتنا اضافہ ہے : ” اگر اس کا ڈھونڈنے والا آ جائے اور تھیلی اور گنتی کی پہچان بتائے تو اسے اس کو دے دو “ ۔ اور حماد نے بھی عبیداللہ بن عمر سے ، عبیداللہ نے عمرو بن شعیب نے «عن ابیہ عن جدہ» عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے اسی کے مثل مرفوعاً روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ زیادتی جو حماد بن سلمہ نے سلمہ بن کہیل ، یحییٰ بن سعید ، عبیداللہ اور ربیعہ کی حدیث ( یعنی حدیث نمبر : ۱۷۰۲ -۱۷۰۳ ) میں کی ہے : «إن جاء صاحبها فعرف عفاصها ووكاءها فادفعها إليه» یعنی : ” اگر اس کا مالک آ جائے اور اس کی تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے تو اس کو دے دو “ ، اس میں : «فعرف عفاصها ووكاءها» ” تھیلی اور سر بندھن کی پہچان بتا دے “ کا جملہ محفوظ نہیں ہے ۔ اور عقبہ بن سوید کی حدیث میں بھی جسے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے یعنی «عرفها سنة» ( ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ) موجود ہے ۔ اور عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : «عرفها سنة» تم ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کسی روایت میں تین سال پہچان (شناخت) کراتے رہنے کا تذکرہ ہے، اور کسی میں ایک سال، یہ سامان اور حالات پر منحصر ہے، یا ایک سال بطور وجوب اور تین سال بطور استحباب و ورع، ان دونوں روایتوں کا اختلاف تضاد کا اختلاف نہیں کہ ایک کو ناسخ قرار دیا جائے اور دوسرے کو منسوخ (ملاحظہ ہو: فتح الباری)۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1708
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح والزيادة عند خ أبي , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1722), انظر الحديث السابق (1704)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم : (1704)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (1713)، ( تحفة الأشراف :28، 3763، 8755، 8784) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1709
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ . ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ الْمَعْنَى ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَا عَدْلٍ أَوْ ذَوِي عَدْلٍ وَلَا يَكْتُمْ وَلَا يُغَيِّبْ فَإِنْ وَجَدَ صَاحِبَهَا فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ وَإِلَّا فَهُوَ مَالُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے لقطہٰ ملے تو وہ ایک یا دو معتبر آدمیوں کو گواہ بنا لے ۱؎ اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے ، اگر اس کے مالک کو پا جائے تو اسے واپس کر دے ، ورنہ وہ اللہ عزوجل کا مال ہے جسے وہ چاہتا ہے دیتا ہے “ ۔
وضاحت:
۱؎: گواہ بنانا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے، اس میں حکمت یہ ہے کہ مال کی چاہت میں آگے چل کر آدمی کی نیت کہیں بری نہ ہو جائے، اس بات کا بھی امکان ہے کہ وہ اچانک مر جائے اوراس کے ورثاء اسے میراث سمجھ لیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3039), أخرجه ابن ماجه (2505 وسنده صحيح)
حدیث تخریج « سنن النسائی/ الکبری (5808، 5809)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 2 (2505)، ( تحفة الأشراف :11013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/162) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1710
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ ؟ فَقَالَ : " مَنْ أَصَابَ بِفِيهِ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْءٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ ، وَمَنْ سَرَقَ مِنْهُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ " ، وَذَكَرَ فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ كَمَا ذَكَرَهُ غَيْرُهُ ، قَالَ : وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : " مَا كَانَ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمِيتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْجَامِعَةِ فَعَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ فَهِيَ لَكَ ، وَمَا كَانَ فِي الْخَرَابِ يَعْنِي فَفِيهَا وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت پر لٹکتے ہوئے پھل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو حاجت مند اسے کھائے اور چھپا کر نہ لے جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں ، اور جو اس میں سے کچھ چھپا کر لے جائے تو اس کا دو گنا جرمانہ دے اور سزا الگ ہو گی ، اور جب میوہ پک کر سوکھنے کے لیے کھلیان میں ڈال دیا جائے اور اس میں سے کوئی اس قدر چرا کر لے جائے جس کی قیمت سپر ( ڈھال ) کی قیمت کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا “ ۔ اس کے بعد گمشدہ اونٹ اور بکری کا ذکر کیا جیسا کہ اوروں نے ذکر کیا ہے ، اس میں ہے : ” آپ سے لقطے کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو لقطہٰ گزر گاہ عام یا آباد گاؤں میں ملے تو ایک سال تک اس کی تشہیر کرو ، اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے دے دو اور اگر نہ آئے تو وہ تمہارا ہے اور جو لقطہٰ کسی اجڑے یا غیر آباد مقام پر ملے تو اس میں اور رکاز ( جاہلیت کے دفینہ ) میں پانچواں حصہ حاکم کو دینا ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1710
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3036، 3594), ان جريج تابعه عمرو بن الحارث وهشام بن سعد عند ابن الجارود (728 وسنده حسن) والنسائي (4962 مختصرًا، وسنده حسن)
حدیث تخریج « سنن الترمذی/البیوع 54 (1289)، سنن النسائی/قطع السارق 9 (4961)، ( تحفة الأشراف :8798)ویأتی عند المؤلف برقم (4390) (حسن) »
حدیث نمبر: 1711
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، بِإِسْنَادِهِ ، بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ ، قَالَ : " فَاجْمَعْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے` البتہ اس میں ہے کہ گمشدہ بکری کے سلسلہ میں آپ نے فرمایا : ” اسے پکڑے رکھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1711
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, وانظر الحديث السابق (1710)
حدیث تخریج « سنن ابن ماجہ/الحدود 28 (2596)، ( تحفة الأشراف :8812) (حسن) »
حدیث نمبر: 1712
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، بِهَذَا بِإِسْنَادِهِ ، وقَالَ فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ : " لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، خُذْهَا قَطُّ " ، وَكَذَا قَالَ فِيهِ أَيُّوبُ ، وَ يَعْقُوبُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فَخُذْهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس طریق سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ بکری تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا بھیڑیئے کی ، تو اسے پکڑے رکھو “ ۔ اسی طرح ایوب اور یعقوب بن عطا نے عمرو بن شعیب سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” تو تم اسے پکڑے رکھو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1712
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, رواه النسائي (4960 وسنده حسن) وانظر الحديثين السابقين (1710، 1711)
حدیث تخریج « سنن النسائی/ قطع السارق 8 (4960)، ( تحفة الأشراف :8755)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/186) (حسن) »
حدیث نمبر: 1713
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا قَالَ فِي ضَالَّةِ الشَّاءِ : " فَاجْمَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے` اس میں ہے : ” گمشدہ بکری کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پکڑے رکھو ، یہاں تک کہ اس کا ڈھونڈھنے والا اس تک آ جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1713
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن, انظر الحديث السابق (1710)
حدیث تخریج « انظر حدیث رقم: (1708)، ( تحفة الأشراف :8784) (حسن) »
حدیث نمبر: 1714
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ حَدَّثَهُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَجَدَ دِينَارًا فَأَتَى بِهِ فَاطِمَةَ ، فَسَأَلَتْ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ رِزْقُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلَ عَلِيٌّ وَ فَاطِمَةُ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ تَنْشُدُ الدِّينَارَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ أَدِّ الدِّينَارَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ایک دینار ملا تو وہ اسے لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، انہوں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” وہ اللہ عزوجل کا دیا ہوا رزق ہے “ ، چنانچہ اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھایا اور علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما نے کھایا ، اس کے بعد ان کے پاس ایک عورت دینار ڈھونڈھتی ہوئی آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! دینار ادا کر دو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1714
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, مشكوة المصابيح (3037), وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :4443) (حسن) »
حدیث نمبر: 1715
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى الْعَبْسِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ الْتَقَطَ دِينَارًا فَاشْتَرَى بِهِ دَقِيقًا فَعَرَفَهُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ فَرَدَّ عَلَيْهِ الدِّينَارَ فَأَخَذَهُ عَلِيٌّ وَقَطَعَ مِنْهُ قِيرَاطَيْنِ فَاشْتَرَى بِهِ لَحْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` انہیں ایک دینار پڑا ملا ، جس سے انہوں نے آٹا خریدا ، آٹے والے نے انہیں پہچان لیا ، اور دینار واپس کر دیا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لے لیا اور اسے بھنا کر اس میں سے دو قیراط ۱؎ کا گوشت خریدا ۔
وضاحت:
۱؎: قیراط: دینار کا بیسواں حصہ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1715
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وللحديث شواھد منھا الحديث الآتي (1716)
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :10028) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1716
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ دَخَلَ عَلَى فَاطِمَةَ وَ حَسَنٌ وَ حُسَيْنٌ يَبْكِيَانِ ، فَقَالَ : مَا يُبْكِيهِمَا ؟ قَالَتْ : الْجُوعُ ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ فَوَجَدَ دِينَارًا بِالسُّوقِ فَجَاءَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا ، فَقَالَتْ : اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَخُذْ لَنَا دَقِيقًا فَجَاءَ الْيَهُودِيَّ فَاشْتَرَى بِهِ ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ : أَنْتَ خَتَنُ هَذَا الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَخُذْ دِينَارَكَ وَلَكَ الدَّقِيقُ ، فَخَرَجَ عَلِيٌّ حَتَّى جَاءَ فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا ، فَقَالَتْ : اذْهَبْ إِلَى فُلَانٍ الْجَزَّارِ فَخُذْ لَنَا بِدِرْهَمٍ لَحْمًا فَذَهَبَ فَرَهَنَ الدِّينَارَ بِدِرْهَمِ لَحْمٍ فَجَاءَ بِهِ فَعَجَنَتْ وَنَصَبَتْ وَخَبَزَتْ وَأَرْسَلَتْ إِلَى أَبِيهَا فَجَاءَهُمْ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَذْكُرُ لَكَ فَإِنْ رَأَيْتَهُ لَنَا حَلَالًا أَكَلْنَاهُ وَأَكَلْتَ مَعَنَا مِنْ شَأْنِهِ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : " كُلُوا بِاسْمِ اللَّهِ " ، فَأَكَلُوا ، فَبَيْنَمَا هُمْ مَكَانَهُمْ إِذَا غُلَامٌ يَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ الدِّينَارَ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُعِيَ لَهُ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : سَقَطَ مِنِّي فِي السُّوقِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَلِيُّ ، اذْهَبْ إِلَى الْجَزَّارِ ، فَقُلْ لَهُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ لَكَ : أَرْسِلْ إِلَيَّ بِالدِّينَارِ وَدِرْهَمُكَ عَلَيَّ " ، فَأَرْسَلَ بِهِ فَدَفَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے بتایا کہ` علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما رو رہے تھے ، تو انہوں نے پوچھا : یہ دونوں کیوں رو رہے ہیں ؟ فاطمہ نے کہا : بھوک ( سے رو رہے ہیں ) ، علی رضی اللہ عنہ باہر نکلے تو بازار میں ایک دینار پڑا پایا ، وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو انہوں نے کہا : فلاں یہودی کے پاس جائیے اور ہمارے لیے آٹا لے لیجئے ، چنانچہ وہ یہودی کے پاس گئے اور اس سے آٹا خریدا ، تو یہودی نے پوچھا : تم اس کے داماد ہو جو کہتا ہے کہ وہ اللہ کا رسول ہے ؟ وہ بولے : ہاں ، اس نے کہا : اپنا دینار رکھ لو اور آٹا لے جاؤ ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ آٹا لے کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو وہ بولیں : فلاں قصاب کے پاس جائیے اور ایک درہم کا گوشت لے آئیے ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ گئے اور اس دینار کو ایک درہم کے بدلے گروی رکھ دیا اور ایک درہم کا گوشت لے آئے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آٹا گوندھا ، ہانڈی چڑھائی اور روٹی پکائی ، اور اپنے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو بلا بھیجا ، آپ تشریف لائے تو وہ بولیں : اللہ کے رسول ! میں آپ سے واقعہ بیان کرتی ہوں اگر آپ اسے ہمارے لیے حلال سمجھیں تو ہم بھی کھائیں اور ہمارے ساتھ آپ بھی کھائیں ، اس کا واقعہ ایسا اور ایسا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا نام لے کر کھاؤ “ ، ابھی وہ لوگ اپنی جگہ ہی پر تھے کہ اسی دوران ایک لڑکا اللہ اور اسلام کی قسم دے کر اپنے کھوئے ہوئے دینار کے متعلق پوچھ رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : بازار میں مجھ سے ( میرا دینار ) گر گیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” علی ! قصاب کے پاس جاؤ اور اس سے کہو : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے کہہ رہے ہیں : دینار مجھے بھیج دو ، تمہارا درہم میرے ذمے ہے “ ، چنانچہ اس نے وہ دینار بھیج دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس ( لڑکے ) کو دے دیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1716
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, وللحديث شواھد
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :4770) (حسن) »
حدیث نمبر: 1717
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ ، بِإِسْنَادِهِ ، وَرَوَاهُ شَبَابَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانُوا لَمْ يَذْكُرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لکڑی ، کوڑے ، رسی اور ان جیسی چیزوں کے بارے میں رخصت دی کہ اگر آدمی انہیں پڑا پائے تو اسے کام میں لائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ابوسلمہ سے اسی طریق سے روایت کیا ہے اور اسے شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے انہوں نے ابو الزبیر سے ابوالزبیر نے جابر سے روایت کیا ہے ، راوی کہتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے یعنی اسے جابر رضی اللہ عنہ پر موقوف کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1717
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن شعيب سمعه من رجل عن المغيرة بن زياد به (الكامل لابن عدي 353/6)والرجل مجهول و أبو الزبير عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :2966) (ضعیف) » (ابوالزبیر مدلس راوی ہیں اور بذریعہ «عن» روایت کئے ہیں)
حدیث نمبر: 1718
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ أَحْسَبُهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ضَالَّةُ الْإِبِلِ الْمَكْتُومَةُ غَرَامَتُهَا وَمِثْلُهَا مَعَهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گمشدہ اونٹ اگر چھپا دیا جائے تو ( چھپانے والے پر ) اس کا جرمانہ ہو گا ، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور ہو گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1718
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, وقع الشك في السند بين عكرمة وأبي ھريرة فالسند معلل, وعمرو بن مسلم ھو غير الجندي،واللّٰه أعلم !, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
حدیث تخریج « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :14251) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1719
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُقَطَةِ الْحَاجِّ " . قَالَ أَحْمَدُ : قَالَ ابْنُ وَهْبٍ : يَعْنِي فِي لُقَطَةِ الْحَاجِّ يَتْرُكُهَا حَتَّى يَجِدَهَا صَاحِبُهَا ، قَالَ ابْنُ مَوْهَبٍ : عَنْ عَمْرٍو .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاجی کے لقطے سے منع فرمایا ۔ احمد کہتے ہیں : ابن وہب نے کہا : یعنی حاجی کے لقطے کے بارے میں کہ وہ اسے چھوڑ دے ، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پا لے ، ابن موہب نے «أخبرني عمرو» کے بجائے «عن عمرو» کہا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1719
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1724)
حدیث تخریج « م /اللقطة 1 (1724)، سنن النسائی/ الکبری/ اللقطة (5805)، ( تحفة الأشراف :9705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/499) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1720
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فَجَاءَ الرَّاعِي بِالْبَقَرِ وَفِيهَا بَقَرَةٌ لَيْسَتْ مِنْهَا ، فَقَالَ لَهُ جَرِيرٌ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ لَا نَدْرِي لِمَنْ هِيَ ، فَقَالَ جَرِيرٌ : أَخْرِجُوهَا ، فَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منذر بن جریر کہتے ہیں` میں جریر کے ساتھ بوازیج ۱؎ میں تھا کہ چرواہا گائیں لے کر آیا تو ان میں ایک گائے ایسی تھی جو ان کی گایوں میں سے نہیں تھی ، جریر نے اس سے پوچھا : یہ کیسی گائے ہے ؟ اس نے کہا : یہ گایوں میں آ کر مل گئی ہے ، ہمیں نہیں معلوم کہ یہ کس کی ہے ، جریر نے کہا : اسے نکالو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” گمشدہ جانور کو کوئی گم راہ ہی اپنے پاس جگہ دیتا ہے “ ۲؎ ۔
وضاحت:
۱؎: ’’بوازيج‘‘: (عراق میں) نہر دجلہ کے قریب ایک شہر کا نام ہے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تا کہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: «من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها» جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
۲؎: مطلب یہ ہے کہ کسی گم شدہ جانور کو اپنا بنا لینے کے لئے اس کو پکڑ لے تو وہ گمراہ ہے، رہا وہ شخص جو اسے اس لئے پکڑے تا کہ اس کی پہچان کرا کر اسے اس کے مالک کے حوالہ کر دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: «من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها» اور نسائی کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: «من أخذ لقطة فهو ضال ما لم يعرفها» جو آدمی گم شدہ چیز اپنے پاس رکھے وہ گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی تشہیر نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب اللقطة / حدیث: 1720
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح المرفوع منه , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (2503), فيه علة قادحةرواه ابن ماجه من حديث أبي حيان التيمي عن الضحاك بن المنذر خال المنذر بن جرير عن المنذر بن جرير به إلخ و الضحاك مجھول الحال،و ثقه ابن حبان وحده, و روي مسلم (1735) عن زيد بن خالد الجهني رضي اللّٰه عنه عن رسول اللّٰه ﷺ قال:((من آوي ضالة فھو ضال مالم يعرّفھا)) وھو يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 68
حدیث تخریج « سنن النسائی/الکبری (5799)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 1 (2503)، ( تحفة الأشراف :3233)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/360، 362) (صحیح) » (مرفوع حصہ صحیح ہے )