کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: حرص اور بخل کی برائی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1698
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالشُّحِّ ، أَمَرَهُمْ بِالْبُخْلِ فَبَخِلُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْقَطِيعَةِ فَقَطَعُوا ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفُجُورِ فَفَجَرُوا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا : ” بخل و حرص سے بچو اس لیے کہ تم سے پہلے لوگ بخل و حرص کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، حرص نے لوگوں کو بخل کا حکم دیا تو وہ بخیل ہو گئے ، بخیل نے انہیں ناتا توڑنے کو کہا تو لوگوں نے ناتا توڑ لیا اور اس نے انہیں فسق و فجور کا حکم دیا تو وہ فسق و فجور میں لگ گئے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1698
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :8628)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری (11583)، مسند احمد (2/159، 160، 191، 195) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1699
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ بَيْتَهُ أَفَأُعْطِي مِنْهُ ، قَالَ : " أَعْطِي وَلَا تُوكِي فَيُوكَى عَلَيْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس سوائے اس کے کچھ نہیں جو زبیر میرے لیے گھر میں لا دیں ، کیا میں اس میں سے دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دو اور اسے بند کر کے نہ رکھو کہ تمہارا رزق بھی بند کر کے رکھ دیا جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1699
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, أخرجه الترمذي (1960 وسنده صحيح) ورواه البخاري (1433) ومسلم (1029) وانظر الحديث الآتي (1700)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/البروالصلة 40 (1960)، سنن النسائی/الزکاة 62 (2551، 2552)، ( تحفة الأشراف: 15718)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 21 (1433)، 22 (1434)، والھبة 15 (2590)، صحیح مسلم/الزکاة 28 (1029)، مسند احمد (6/139، 344، 353، 354) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةِ ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ عِدَّةً مِنْ مَسَاكِينَ قَالَ أَبُو دَاوُد : وقَالَ غَيْرُهُ : أَوْ عِدَّةً مِنْ صَدَقَةٍ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصَى عَلَيْكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` انہوں نے کئی مسکینوں کا ذکر کیا ( ابوداؤد کہتے ہیں : دوسروں کی روایت میں «عدة من صدقة» ( کئی صدقوں کا ذکر ہے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” دو اور گنو مت کہ تمہیں بھی گن گن کر رزق دیا جائے “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1700
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 16234)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 62 (2552)، مسند احمد (6/108، 139، 160) (صحیح) »