کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: سارا مال صدقہ کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1677
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدُ الْمُقِلِّ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم مال والے کا تکلیف اٹھا کر دینا اور پہلے ان لوگوں کو دو جن کا تم خرچ اٹھاتے ہو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1677
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (1938), صححه ابن خزيمة (2444 وسنده صحيح، 2451)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :14813)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/358) (صحیح) »
حدیث نمبر: 1678
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَذَا حَدِيثُهُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَنْ نَتَصَدَّقَ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي ، فَقُلْتُ : الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ " قُلْتُ : مِثْلَهُ ، قَالَ : وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ " قَالَ : أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قُلْتُ : لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسلم کہتے ہیں کہ` میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ ایک دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں ، اتفاق سے اس وقت میرے پاس دولت تھی ، میں نے کہا : اگر میں کسی دن ابوبکر رضی اللہ عنہ پر سبقت لے جا سکوں گا تو آج کا دن ہو گا ، چنانچہ میں اپنا آدھا مال لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : اسی قدر یعنی آدھا مال ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا سارا مال لے کر حاضر ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : ” اپنے گھر والوں کے لیے تم نے کیا چھوڑا ہے ؟ “ ، انہوں نے کہا میں ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں ۱؎ ، تب میں نے ( دل میں ) کہا : میں آپ سے کبھی بھی کسی معاملے میں نہیں بڑھ سکوں گا ۔
وضاحت:
۱؎: گذشتہ باب کی حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سارا مال اللہ کی راہ میں دینے سے اللہ کے رسول نے روکا ہے، جب کہ باب کی اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری دولت اللہ کی راہ میں دے دی، اور یہ بات آپ کی فضیلت و بزرگی کا باعث بھی بنی، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ ممانعت کا حکم ایسے لوگوں کے لئے ہے جن کے اعتماد اور توکل میں کمزوری ہو، اور وہ مال دینے کے بعد مفلسی سے گھبرائیں اور ندامت و شرمندگی محسوس کریں، لیکن اس کے برخلاف اگر کسی شخص کے اندر ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسا جذبہ، اللہ کی ذات پر اعتماد و توکل ہو تو اس کے لئے اس کام میں کوئی حرج نہیں بلکہ باعث خیر و برکت ہو گا، ان شاء اللہ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1678
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1912، 6030), أخرجه الترمذي (3675 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/المناقب 16 (3675)، ( تحفة الأشراف :10390)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الزکاة 26 (1701) (حسن) »