کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: ذمی کو صدقہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1668
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ رَاغِمَةٌ مُشْرِكَةٌ أَفَأَصِلُهَا ، قَالَ : " نَعَمْ فَصِلِي أُمَّكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میرے پاس میری ماں آئیں جو قریش کے دین کی طرف مائل اور اسلام سے بیزار اور مشرکہ تھیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں میرے پاس آئی ہیں اور وہ اسلام سے بیزار اور مشرکہ ہیں ، کیا میں ان سے صلہ رحمی کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1668
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2620) صحيح مسلم (1003)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الھبة 29 (2620)، والجزیة 18 (3183)، والأدب 8 (5978)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1003)، ( تحفة الأشراف: 15724)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/344، 347، 355) (صحیح) »