حدیث نمبر: 1639
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَسَائِلُ كُدُوحٌ يَكْدَحُ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ فَمَنْ شَاءَ أَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَ ، إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ ذَا سُلْطَانٍ أَوْ فِي أَمْرٍ لَا يَجِدُ مِنْهُ بُدًّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوال کرنا آدمی کا اپنے چہرے کو زخم لگانا ہے تو جس کا جی چاہے اپنے چہرے پر ( نشان زخم ) باقی رکھے اور جس کا جی چاہے اسے ( مانگنا ) ترک کر دے ، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگے یا کسی ایسے مسئلہ میں مانگے جس میں کوئی اور چارہ کار نہ ہو “ ۔
حدیث نمبر: 1640
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ ، قَالَ : تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " يَا قَبِيصَةُ ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ : سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ایک قرضے کا ضامن ہو گیا ، چنانچہ ( مانگنے کے لے ) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : ” قبیصہ ! رکے رہو یہاں تک کہ ہمارے پاس کہیں سے صدقے کا مال آ جائے تو ہم تمہیں اس میں سے دیں “ ، پھر فرمایا : ” قبیصہ ! سوائے تین آدمیوں کے کسی کے لیے مانگنا درست نہیں : ایک اس شخص کے لیے جس پر ضمانت کا بوجھ پڑ گیا ہو ، اس کے لیے مانگنا درست ہے اس وقت تک جب تک وہ اسے پا نہ لے ، اس کے بعد اس سے باز رہے ، دوسرے وہ شخص ہے جسے کوئی آفت پہنچی ہو ، جس نے اس کا مال تباہ کر دیا ہو ، اس کے لیے بھی مانگتا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا سرمایہ پا جائے کہ گزارہ کر سکے ، تیسرے وہ شخص ہے جو فاقے سے ہو اور اس کی قوم کے تین عقلمند آدمی کہنے لگیں کہ فلاں کو فاقہ ہو رہا ہے ، اس کے لیے بھی مانگنا درست ہے یہاں تک کہ وہ اتنا مال پا جائے جس سے وہ گزارہ کر سکے ، اس کے بعد اس سے باز آ جائے ، اے قبیصہ ! ان صورتوں کے علاوہ مانگنا حرام ہے ، جو مانگ کر کھاتا ہے گویا وہ حرام کھا رہا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 1641
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ الْأَخْضَرِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ ، فَقَالَ : " أَمَا فِي بَيْتِكَ شَيْءٌ ؟ " قَالَ : بَلَى ، حِلْسٌ نَلْبَسُ بَعْضَهُ وَنَبْسُطُ بَعْضَهُ وَقَعْبٌ نَشْرَبُ فِيهِ مِنَ الْمَاءِ ، قَالَ : " ائْتِنِي بِهِمَا " ، قَالَ : فَأَتَاهُ بِهِمَا فَأَخَذَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِي هَذَيْنِ ؟ " قَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمٍ ، قَالَ : " مَنْ يَزِيدُ عَلَى دِرْهَمٍ " مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، قَالَ رَجُلٌ : أَنَا آخُذُهُمَا بِدِرْهَمَيْنِ ، فَأَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ وَأَخَذَ الدِّرْهَمَيْنِ وَأَعْطَاهُمَا الْأَنْصَارِيَّ ، وَقَالَ : " اشْتَرِ بِأَحَدِهِمَا طَعَامًا فَانْبِذْهُ إِلَى أَهْلِكَ وَاشْتَرِ بِالْآخَرِ قَدُومًا فَأْتِنِي بِهِ " ، فَأَتَاهُ بِهِ ، فَشَدَّ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودًا بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُ : " اذْهَبْ فَاحْتَطِبْ وَبِعْ وَلَا أَرَيَنَّكَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا " ، فَذَهَبَ الرَّجُلُ يَحْتَطِبُ وَيَبِيعُ فَجَاءَ وَقَدْ أَصَابَ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ فَاشْتَرَى بِبَعْضِهَا ثَوْبًا وَبِبَعْضِهَا طَعَامًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَجِيءَ الْمَسْأَلَةُ نُكْتَةً فِي وَجْهِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ ، أَوْ لِذِي غُرْمٍ مُفْظِعٍ ، أَوْ لِذِي دَمٍ مُوجِعٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک انصاری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لیے آیا ، آپ نے پوچھا : ” کیا تمہارے گھر میں کچھ نہیں ہے ؟ “ ، بولا : کیوں نہیں ، ایک کمبل ہے جس میں سے ہم کچھ اوڑھتے ہیں اور کچھ بچھا لیتے ہیں اور ایک پیالا ہے جس میں ہم پانی پیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ دونوں میرے پاس لے آؤ “ ، چنانچہ وہ انہیں آپ کے پاس لے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور فرمایا : ” یہ دونوں کون خریدے گا ؟ “ ، ایک آدمی بولا : انہیں میں ایک درہم میں خرید لیتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ایک درہم سے زیادہ کون دے رہا ہے ؟ “ ، دو بار یا تین بار ، تو ایک شخص بولا : میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وہ دونوں چیزیں دے دیں اور اس سے درہم لے کر انصاری کو دے دئیے اور فرمایا : ” ان میں سے ایک درہم کا غلہ خرید کر اپنے گھر میں ڈال دو اور ایک درہم کی کلہاڑی لے آؤ “ ، وہ کلہاڑی لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لکڑی ٹھونک دی اور فرمایا : ” جاؤ لکڑیاں کاٹ کر لاؤ اور بیچو اور پندرہ دن تک میں تمہیں یہاں نہ دیکھوں “ ، چنانچہ وہ شخص گیا ، لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور بیچتا رہا ، پھر آیا اور دس درہم کما چکا تھا ، اس نے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے کہ قیامت کے دن مانگنے کی وجہ سے تمہارے چہرے میں کوئی داغ ہو ، مانگنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے درست ہے : ایک تو وہ جو نہایت محتاج ہو ، خاک میں لوٹتا ہو ، دوسرے وہ جس کے سر پر گھبرا دینے والے بھاری قرضے کا بوجھ ہو ، تیسرے وہ جس پر خون کی دیت لازم ہو اور وہ دیت ادا نہ کر سکتا ہو اور اس کے لیے وہ سوال کرے “ ۔