حدیث نمبر: 1619
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ مُسَدَّدٌ : عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، أَوْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَاعٌ مِنْ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ اثْنَيْنِ صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، أَمَّا غَنِيُّكُمْ فَيُزَكِّيهِ اللَّهُ ، وَأَمَّا فَقِيرُكُمْ فَيَرُدُّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَى " ، زَادَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ : " غَنِيٍّ أَوْ فَقِيرٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن ابوصعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گیہوں کا ایک صاع ہر دو آدمیوں پر لازم ہے ( ہر ایک کی طرف سے آدھا صاع ) چھوٹے ہوں یا بڑے ، آزاد ہوں یا غلام ، مرد ہوں یا عورت ، رہا تم میں جو غنی ہے ، اللہ اسے پاک کر دے گا ، اور جو فقیر ہے اللہ اسے اس سے زیادہ لوٹا دے گا ، جتنا اس نے دیا ہے “ ۔ سلیمان نے اپنی روایت میں «غنيٍ أو فقيرٍ» کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1620
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ،عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى : هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ، أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ، فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ " ، زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ : أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ ، ثُمَّ اتَّفَقَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر شخص کی جانب سے نکالنے کا حکم دیا ۔ علی بن حسین نے اپنی روایت میں «أو صاع بر أو قمح بين اثنين» کا اضافہ کیا ہے ( یعنی دو آدمیوں کی طرف سے گیہوں کا ایک صاع نکالنے کا ) ، پھر دونوں کی روایتیں متفق ہیں : ” چھوٹے بڑے آزاد اور غلام ہر ایک کی طرف سے “ ۔
حدیث نمبر: 1621
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ : قَالَ ابْنُ صَالِحٍ : قَالَ الْعَدَوِيُّ قال أَبُو دَاوُدَ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ : قَالَ الْعَدَوِيُّ : : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمَيْنِ ، بِمَعْنَى حَدِيثِ الْمُقْرِئِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرزاق کہتے ہیں ابن جریج نے ہمیں خبر دی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ` ابن شہاب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن ثعلبہ ( جزم کے ساتھ بغیر شک کے ) کہا ۱؎ ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے عبداللہ بن ثعلبہ کے تعلق سے کہا ہے کہ وہ عدوی ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ احمد بن صالح نے عبداللہ صالح کو عذری کہا ہے ۲؎ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دو دن پہلے لوگوں کو خطبہ دیا ، یہ خطبہ مقری ( عبداللہ بن یزید ) کی روایت کے مفہوم پر مشتمل تھا ۔
وضاحت:
۱؎: نعمان بن راشد اور بکر بن وائل کی جو روایت زہری سے اوپر گزری ہے اس میں شک کے ساتھ آیا ہے۔
۲؎: عدوی تصحیف ہے۔
۲؎: عدوی تصحیف ہے۔
حدیث نمبر: 1622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ حُمَيْدٌ : أَخْبَرَنَا ، عَنْ الْحَسَنِ ، قَالَ : " خَطَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي آخِرِ رَمَضَانَ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ ، فَقَالَ : أَخْرِجُوا صَدَقَةَ صَوْمِكُمْ ، فَكَأَنَّ النَّاسَ لَمْ يَعْلَمُوا ، فَقَالَ : مَنْ هَاهُنَا ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ، فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رُخْصَ السِّعْرِ ، قَالَ : قَدْ أَوْسَعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ ، فَلَوْ جَعَلْتُمُوهُ صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ " ، قَالَ حُمَيْدٌ : وَكَانَ الْحَسَنُ يَرَى صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى مَنْ صَامَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے اخیر میں بصرہ کے منبر پر خطبہ دیا اور کہا : ” اپنے روزے کا صدقہ نکالو “ ، لوگ نہیں سمجھ سکے تو انہوں نے کہا : ” اہل مدینہ میں سے کون کون لوگ یہاں موجود ہیں ؟ اٹھو اور اپنے بھائیوں کو سمجھاؤ ، اس لیے کہ وہ نہیں جانتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ فرض کیا کھجور یا جَو سے ایک صاع ، اور گیہوں سے آدھا صاع ہر آزاد اور غلام ، مرد ، عورت ، چھوٹے اور بڑے پر “ ، پھر جب علی رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ارزانی دیکھی اور کہنے لگے : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کر دی ہے ، اب اسے ہر شے میں سے ایک صاع کر لو ۱؎ تو بہتر ہے “ ۔ حمید کہتے ہیں : حسن کا خیال تھا کہ صدقہ فطر اس شخص پر ہے جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی گیہوں بھی ایک صاع دو۔