حدیث نمبر: 1611
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَقَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ أَيْضًا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ ، قَالَ فِيهِ فِيمَا قَرَأَهُ عَلَيَّ مَالِكٌ : " زَكَاةُ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کھجور سے ایک صاع اور جو سے ایک صاع فرض کیا ہے ، جو مسلمانوں میں سے ہر آزاد اور غلام پر ، مرد اور عورت پر ( فرض ) ہے ۔
حدیث نمبر: 1612
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا " ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى مَالِكٍ ، زَادَ : " وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِإِسْنَادِهِ ، قَالَ : " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ " . وَرَوَاهُ سَعِيدٌ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ فِيهِ : " مِنَ الْمُسْلِمِينَ " ، وَالْمَشْهُورُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ایک صاع مقرر کیا ، پھر راوی نے مالک کی روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی ، اس میں «والصغير والكبير وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة» ” ہر چھوٹے اور بڑے پر ( صدقہ فطر واجب ہے ) اور آپ نے لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے اس کے ادا کر دینے کا حکم دیا ) کا اضافہ کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ عمری نے اسے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے اس میں «على كل مسلم» کے الفاظ ہیں ( یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے ) ۱؎ اور اسے سعید جمحی نے عبیداللہ ( عمری ) سے انہوں نے نافع سے روایت کیا ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ ہے حالانکہ عبیداللہ سے جو مشہور ہے اس میں «من المسلمين» کا لفظ نہیں ہے ۔
وضاحت:
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ کافر غلام یا کافر لونڈی کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا ضروری نہیں۔
حدیث نمبر: 1613
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، وَبِشْرَ بْنَ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَاهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ، " فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ عَلَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ " ، زَادَ مُوسَى : وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى . قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ فِيهِ : أَيُّوبُ وَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ فِي حَدِيثِهِمَا : عَنْ نَافِعٍ ، ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَيْضًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر جو یا کھجور میں سے ہر چھوٹے بڑے اور آزاد اور غلام پر ایک صاع فرض کیا ہے ۔ موسیٰ کی روایت میں «والذكر والأنثى» بھی ہے یعنی مرد اور عورت پر بھی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس میں ایوب اور عبداللہ یعنی عمری نے اپنی اپنی روایتوں میں نافع سے «ذكر أو أنثى» کے الفاظ ( نکرہ کے ساتھ ) ذکر کئے ہیں ۔
حدیث نمبر: 1614
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ الْجُهَنِيُّ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَ النَّاسُ يُخْرِجُونَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ تَمْرٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ زَبِيبٍ " ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَثُرَتِ الْحِنْطَةُ ، جَعَلَ عُمَرُ نِصْفَ صَاعٍ حِنْطَةً مَكَانَ صَاعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَشْيَاءِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ صدقہ فطر میں ایک صاع جو یا کھجور یا بغیر چھلکے کا جو ، یا انگور نکالتے تھے ، جب عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور گیہوں بہت زیادہ آنے لگا تو انہوں نے ان تمام چیزوں کے بدلے گیہوں کا آدھا صاع ( صدقہ فطر ) مقرر کیا ۔
حدیث نمبر: 1615
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : " فَعَدَلَ النَّاسُ بَعْدُ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ " ، قَالَ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُعْطِي التَّمْرَ فَأُعْوِزَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ التَّمْرَ عَامًا ، فَأَعْطَى الشَّعِيرَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : اس کے بعد لوگوں نے آدھے صاع گیہوں کو ایک صاع کے برابر کر لیا ، عبداللہ ( ایک صاع ) کھجور ہی دیا کرتے تھے ، ایک سال مدینے میں کھجور کا ملنا دشوار ہو گیا تو انہوں نے جو دیا ۔
حدیث نمبر: 1616
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ ، صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ مُعَاوِيَةُ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا ، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ ، أَنْ قَالَ : إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، وَ عَبْدَةُ وَغَيْرِهِمَا ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بِمَعْنَاهُ ، وَذَكَرَ رَجُلٌ وَاحِدٌ فِيهِ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ : أَوْ صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ ، وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان باحیات تھے ، ہم لوگ صدقہ فطر ہر چھوٹے اور بڑے ، آزاد اور غلام کی طرف سے غلہ یا پنیر یا جو یا کھجور یا کشمش سے ایک صاع نکالتے تھے ، پھر ہم اسی طرح نکالتے رہے یہاں تک کہ معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے آئے تو انہوں نے منبر پر چڑھ کر لوگوں سے کچھ باتیں کیں ، ان میں ان کی یہ بات بھی شامل تھی : میری رائے میں اس گیہوں کے جو شام سے آتا ہے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہیں ، پھر لوگوں نے یہی اختیار کر لیا ، اور ابوسعید نے کہا : لیکن میں جب تک زندہ رہوں گا برابر ایک ہی صاع نکالتا رہوں گا ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : اسے ابن علیہ اور عبدہ وغیرہ نے ابن اسحاق سے ، ابی اسحاق نے عبداللہ بن عبداللہ بن عثمان بن حکیم بن حزام سے ، عبداللہ بن عبداللہ نے عیاض سے اور عیاض نے ابوسعید سے اسی مفہوم کے ساتھ نقل کیا ہے ، ایک شخص نے ابن علیہ سے «أو صاعًا من حنطة» بھی نقل کیا ہے لیکن یہ غیر محفوظ ہے ۔
حدیث نمبر: 1617
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحِنْطَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَقَدْ ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ هِشَامٍ ، أَوْ مِمَّنْ رَوَاهُ عَنْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے اسماعیل ( اسماعیل ابن علیہ ) سے یہی حدیث ( نمبر : ۱۶۱۶ کے اخیر میں مذکور سند سے ) مروی ہے` اس میں حنطہٰ کا ذکر نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : معاویہ بن ہشام نے اس حدیث میں ثوری سے ، ثوری نے زید بن اسلم سے ، زیدی اسلم نے عیاض سے ، عیاض نے ابوسعید سے «نصف صاع من بُرٍّ» نقل کیا ہے ، لیکن یہ زیادتی معاویہ بن ہشام کا یا اس شخص کا وہم ہے جس نے ان سے روایت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 1618
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، سَمِعَ عِيَاضًا ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " لَا أُخْرِجُ أَبَدًا إِلَّا صَاعًا ، إِنَّا كُنَّا نُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ زَبِيبٍ " ، هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى ، زَادَ سُفْيَانُ : أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ ، قَالَ حَامِدٌ : فَأَنْكَرُوا عَلَيْهِ فَتَرَكَهُ سُفْيَانُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : فَهَذِهِ الزِّيَادَةُ وَهْمٌ مِنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ہمیشہ ایک ہی صاع نکالوں گا ، ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھجور ، یا جو ، یا پنیر ، یا انگور کا ایک ہی صاع نکالتے تھے ۔ یہ یحییٰ کی روایت ہے ، سفیان کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : یا ایک صاع آٹے کا ، حامد کہتے ہیں : لوگوں نے اس زیادتی پر نکیر کی ، تو سفیان نے اسے چھوڑ دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ زیادتی ابن عیینہ کا وہم ہے ۔