کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: جن پھلوں کو زکاۃ میں دینا جائز نہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 1607
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجُعْرُورِ ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ " . قَالَ الزُّهْرِيُّ : لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ . قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأَسْنَدَهُ أَيْضًا أَبُو الْوَلِيدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «جعرور» اور «لون الحبیق» کو زکاۃ میں لینے سے منع ۱؎ فرمایا ، زہری کہتے ہیں : یہ دونوں مدینے کی کھجور کی قسمیں ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوالولید نے بھی سلیمان بن کثیر سے انہوں نے زہری سے روایت کیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: زکاۃ میں اوسط درجہ کا مال دیا جاتا ہے، نہ بہت عمدہ اور نہ بہت خراب، کھجور کی مذکورہ دونوں قسمیں ردی اور خراب ہیں، اس لئے انہیں زکاۃ میں دینے سے منع فرمایا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1607
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الزھري مدلس وعنعن, وانظر سنن النسائي (2494) وسنده حسن فإنه يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 65
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :4658)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الزکاة 27 (2494) (صحیح) » (متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سفیان بن حسین: ابن شہاب زھری سے روایت میں ضعیف ہیں)
حدیث نمبر: 1608
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي الْقَطَّانَ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَبِيَدِهِ عَصَا ، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ قَنَا حَشَفًا ، فَطَعَنَ بِالْعَصَا فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ ، وَقَالَ : " لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا " وَقَالَ : " إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے ، آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ، ایک شخص نے خراب قسم کی کھجور کا خوشہ لٹکا رکھا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خوشہ میں چھڑی چبھوئی اور فرمایا : ” اس کا صدقہ دینے والا شخص اگر چاہتا تو اس سے بہتر دے سکتا تھا “ ، پھر فرمایا : ” یہ صدقہ دینے والا قیامت کے روز «حشف» ( خراب قسم کی کھجور ) کھائے گا “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1608
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (1821 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن النسائی/الزکاة 27 (2495)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 19 (1821)، ( تحفة الأشراف :10914)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/23، 28) (حسن) »