کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: درخت پر پھل کے تخمینہ لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1605
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : جَاءَ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَجْلِسِنَا ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا وَدَعُوا الثُّلُثَ ، فَإِنْ لَمْ تَدَعُوا أَوْ تَجُذُّوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبْعَ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : الْخَارِصُ يَدَعُ الثُّلُثَ لِلْحِرْفَةِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہماری مجلس میں تشریف لائے ، انہوں نے کہا : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب تم پھلوں کا تخمینہ کر لو تب انہیں کاٹو اور ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تم ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو ایک چوتھائی ہی چھوڑ دیا کرو ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اندازہ لگانے والا ایک تہائی بیج بونے وغیرہ جیسے کاموں کے لیے چھوڑ دے گا ، اس کی زکاۃ نہیں لے گا ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی جتنا اندازہ لگایا جائے اس میں سے ایک تہائی حصہ چھوڑ دیا جائے، اس کی زکاۃ نہ لی جائے کیوں کہ تخمینے میں کمی بیشی کا احتمال ہے، اسی طرح پھل تلف بھی ہو جاتے ہیں اور کچھ کو جانور کھا جاتے ہیں، ایک تہائی چھوڑ دینے سے مالک کے ان نقصانات کی تلافی اور بھر پائی ہو جاتی ہے، اس پر اکثر علماء کا عمل ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1605
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1805), أخرجه الترمذي (643 وسنده حسن) والنساني (2493 وسنده حسن) وصححه ابن خزيمة (2319، 2320 وسندھما حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الزکاة 17 (643)، سنن النسائی/الزکاة 26 (2490)، ( تحفة الأشراف :4647)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/3) (ضعیف) » (عبدالرحمن بن مسعود انصاری لین الحدیث ہیں)