کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: مال کی زکاۃ کہاں وصول کی جائے؟
حدیث نمبر: 1591
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا جَلَبَ ، وَلَا جَنَبَ ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دُورِهِمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہ «جلب» صحیح ہے نہ «جنب» لوگوں سے زکاۃ ان کے ٹھکانوں میں ہی لی جائے گی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: «جلب» زکاۃ دینے والا اپنے جانور کھینچ کر عامل کے پاس لے آئے، اور «جنب» زکاۃ دینے والا اپنے جانور دور لے کر چلا جائے تاکہ عامل کو زکاۃ لینے کے لئے وہاں جانا پڑے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1591
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (1786), محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (2/180، 216) وتابعه عبد الرحمن بن حارث عند أحمد (2/215)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :8785، 19284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180، 216) (حسن صحیح) »
حدیث نمبر: 1592
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ :عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، فِي قَوْلِهِ : لَا جَلَبَ وَلَا جَنَبَ ، قَالَ : أَنْ تُصَدَّقَ الْمَاشِيَةُ فِي مَوَاضِعِهَا وَلَا تُجْلَبَ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَالْجَنَبُ عَنْ غَيْرِ هَذِهِ الْفَرِيضَةِ أَيْضًا لَا يُجْنَبُ أَصْحَابُهَا ، يَقُولُ : وَلَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِأَقْصَى مَوَاضِعِ أَصْحَابِ الصَّدَقَةِ فَتُجْنَبُ إِلَيْهِ ، وَلَكِنْ تُؤْخَذُ فِي مَوْضِعِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محمد بن اسحاق سے` آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : «لا جلب ولا جنب» کی تفسیر میں مروی ہے کہ «لا جلب» کا مطلب یہ ہے کہ جانوروں کی زکاۃ ان کی جگہوں میں جا کر لی جائے وہ مصدق تک کھینچ کر نہ لائے جائیں ، اور «جنب» فریضہ زکاۃ کے علاوہ میں بھی استعمال کیا جاتا ہے : وہ کہتے ہیں : «جنب» یہ ہے کہ محصل زکاۃ دینے والوں کی جگہوں سے دور نہ رہے کہ جانور اس کے پاس لائے جائیں بلکہ اسی جگہ میں زکاۃ لی جائے گی ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس تفسیرکی رو سے «جلب» اور «جنب» کے معنی ایک ہو جا رہے ہیں، اور «جنب» کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ «جنب» یہ ہے کہ جانوروں کا مالک جانوروں کو ان کی جگہوں سے ہٹا کر دور کر لے تاکہ محصل کو انہیں ڈھونڈنے اور ان کے پاس پہنچنے میں زحمت و پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1592
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :8785، 19284)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/180، 216) (صحیح) »