کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: اونٹوں کی عمر کی تفصیل۔
حدیث نمبر: Q1591
قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمِعْتُهُ مِنْ الرِّيَاشِيِّ ، وَأَبِي حَاتِمٍ ، وَغَيْرِهِمَا ، وَمِنْ كِتَابِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ ، وَمِنْ كِتَابِ أَبِي عُبَيْدٍ ، وَرُبَّمَا ذَكَرَ أَحَدُهُمُ الْكَلِمَةَ ، قَالُوا : يُسَمَّى الْحُوَارُ ، ثُمَّ الْفَصِيلُ إِذَا فَصَلَ ، ثُمَّ تَكُونُ بِنْتُ مَخَاضٍ لِسَنَةٍ إِلَى تَمَامِ سَنَتَيْنِ ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي الثَّالِثَةِ فَهِيَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِذَا تَمَّتْ لَهُ ثَلَاثُ سِنِينَ فَهُوَ حِقٌّ ، وَحِقَّةٌ إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ لِأَنَّهَا اسْتَحَقَّتْ أَنْ تُرْكَبَ وَيُحْمَلَ عَلَيْهَا الْفَحْلُ وَهِيَ تَلْقَحُ ، وَلَا يُلْقَحُ الذَّكَرُ حَتَّى يُثَنِّيَ ، وَيُقَالُ لِلْحِقَّةِ : طَرُوقَةُ الْفَحْلِ لِأَنَّ الْفَحْلَ يَطْرُقُهَا إِلَى تَمَامِ أَرْبَعِ سِنِينَ ، فَإِذَا طَعَنَتْ فِي الْخَامِسَةِ فَهِيَ جَذَعَةٌ حَتَّى يَتِمَّ لَهَا خَمْسُ سِنِينَ ، فَإِذَا دَخَلَتْ فِي السَّادِسَةِ وَأَلْقَى ثَنِيَّتَهُ فَهُوَ حِينَئِذٍ ثَنِيٌّ حَتَّى يَسْتَكْمِلَ سِتًّا ، فَإِذَا طَعَنَ فِي السَّابِعَةِ سُمِّيَ الذَّكَرُ رَبَاعِيًا وَالْأُنْثَى رَبَاعِيَةً إِلَى تَمَامِ السَّابِعَةِ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي الثَّامِنَةِ وَأَلْقَى السِّنَّ السَّدِيسَ الَّذِي بَعْدَ الرَّبَاعِيَةِ فَهُوَ سَدِيسٌ وَسَدَسٌ إِلَى تَمَامِ الثَّامِنَةِ ، فَإِذَا دَخَلَ فِي التِّسْعِ وَطَلَعَ نَابُهُ فَهُوَ بَازِلٌ أَيْ بَزَلَ نَابُهُ ، يَعْنِي طَلَعَ ، حَتَّى يَدْخُلَ فِي الْعَاشِرَةِ فَهُوَ حِينَئِذٍ مُخْلِفٌ ، ثُمَّ لَيْسَ لَهُ اسْمٌ ، وَلَكِنْ يُقَالُ : بَازِلُ عَامٍ ، وَبَازِلُ عَامَيْنِ ، وَمُخْلِفُ عَامٍ ، وَمُخْلِفُ عَامَيْنِ ، وَمُخْلِفُ ثَلَاثَةِ أَعْوَامٍ إِلَى خَمْسِ سِنِينَ ، وَالْخَلِفَةُ الْحَامِلُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : وَالْجَذُوعَةُ وَقْتٌ مِنَ الزَّمَنِ لَيْسَ بِسِنٍّ ، وَفُصُولُ الْأَسْنَانِ عِنْدَ طُلُوعِ سُهَيْلٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد : وَأَنْشَدَنَا الرِّيَاشِيُّ : إِذَا سُهَيْلٌ أَوَّلَ اللَّيْلِ طَلَعْ فَابْنُ اللَّبُونِ الْحِقُّ وَالْحِقُّ جَذَعْ لَمْ يَبْقَ مِنْ أَسْنَانِهَا غَيْرُ الْهُبَعْ وَالْهُبَعُ الَّذِي يُولَدُ فِي غَيْرِ حِينِهِ
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوداؤد کہتے ہیں` میں نے اونٹوں کی عمروں کی یہ تفصیل ریاشی اور ابوحاتم وغیرہ وغیرہ سے سنا ہے ، اور نضر بن مشمیل اور ابوعبید کی کتاب سے حاصل کی ہے ، اور بعض باتیں ان میں سے کسی ایک ہی نے ذکر کی ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے : اونٹ کا بچہ ( جب پیدا ہو ) «حواءر» کہلاتا ہے ۔ جب دودھ چھوڑے تو اسے «فصیل» کہتے ہیں ۔ جب ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں لگ جائے تو دوسرے سال کے پورا ہونے تک اسے «بنت مخاض» کہتے ہیں ۔ جب تیسرے میں داخل ہو جائے تو اسے «بنت لبون» کہتے ہیں ۔ جب تین سال پورے کرے تو چار برس پورے ہونے تک اسے «حِق» یا «حقہ» کہتے ہیں کیونکہ وہ سواری اور جفتی کے لائق ہو جاتی ہے ، اور اونٹنی ( مادہ ) اس عمر میں حاملہ ہو جاتی ہے ، لیکن نر جوان نہیں ہوتا ، جب تک دگنی عمر ( چھ برس ) کا نہ ہو جائے ، «حقہ» کو «طروقۃ الفحل» بھی کہتے ہیں ، اس لیے کہ نر اس پر سوار ہوتا ہے ۔ جب پانچواں برس لگے تو پانچ برس پورے ہونے تک «جذعہ» کہلاتا ہے ۔ جب چھٹا برس لگے اور وہ سامنے کے دانت گراوے تو چھ برس پورے ہونے تک وہ «ثنی» ہے ۔ جب ساتواں برس لگے تو سات برس پورے ہونے تک نر کو «رباعی» اور مادہ کو «رباعیہ» کہتے ہیں ۔ جب آٹھواں برس لگے اور چھٹا دانت گرا دے تو آٹھ برس پورے ہونے تک اسے «سدیس» یا «سدس» کہتے ہیں ۔ جب وہ نویں برس میں لگ جائے تو اسے دسواں برس شروع ہونے تک «بازل» کہتے ہیں ، اس لیے کہ اس کی کچلیاں نکل آتی ہیں ، کہا جاتا ہے «بزل نابه» یعنی اس کے دانت نکل آئے ۔ اور دسواں برس لگ جائے تو وہ «مخلف» ہے ، اس کے بعد اس کا کوئی نام نہیں ، البتہ یوں کہتے ہیں : ایک سال کا «بازل» ، دو سال کا «بازل» ، ایک سال کا «مخلف» ، دو سال کا «مخلف» اور تین سال کا «مخلف» ، یہ سلسلہ پانچ سال تک چلتا ہے ۔ «خلفہ» حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں ۔ ابوحاتم نے کہا : «جذوعہ» ایک مدت کا نام ہے کسی خاص دانت کا نام نہیں ، دانتوں کی فصل سہیل تارے کے نکلنے پر بدلتی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ہم کو ریاشی نے شعر سنائے ( جن کے معنی ہیں ) : جب رات کے اخیر میں سہیل ( ستارہ ) نکلا تو «ابن لبون» «حِق» ہو گیا اور «حِق» «جذع» ہو گیا کوئی دانت نہ رہا سوائے «ہبع» کے ۔ «ہبع» : وہ بچہ ہے جو سہیل کے طلوع کے وقت میں پیدا نہ ہو ، بلکہ کسی اور وقت میں پیدا ہو ، اس کی عمر کا حساب سہیل سے نہیں ہوتا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: Q1591