کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1586
حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْمَعْنَى قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : دَيْسَم ، وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ ، مِنْ بَنِي سَدُوسٍ ، عَنْ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ ، قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ فِي حَدِيثِهِ : وَمَا كَانَ اسْمُهُ بَشِيرًا ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ بَشِيرًا ، قَالَ : قُلْنَا : إِنَّ أَهْلَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا ، أَفَنَكْتُمُ مِنْ أَمْوَالِنَا بِقَدْرِ مَا يَعْتَدُونَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " لَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` ( ابن عبید اپنی حدیث میں کہتے ہیں : ان کا نام بشیر نہیں تھا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھ دیا تھا ) وہ کہتے ہیں : ہم نے عرض کیا : زکاۃ لینے والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، کیا جس قدر وہ زیادتی کرتے ہیں اتنا مال ہم چھپا لیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ديسم مستور،لم يوثقه غير ابن حبان, و قال الذھبي :’’ لا يدري من ھو‘‘ ؟ (ميزان الإعتدال 29/2), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: 2022)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/84) (ضعیف) » (اس کے راوی دیسم لین الحدیث ہیں)
حدیث نمبر: 1587
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْحَابَ الصَّدَقَةِ يَعْتَدُونَ . قَالَ أَبُو دَاوُد : رَفَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ایوب سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے` مگر اس میں ہے ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! زکاۃ لینے والے زیادتی کرتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرزاق نے معمر سے اسے مرفوعاً نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (1586), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف :2022) (ضعیف) »
حدیث نمبر: 1588
حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الْغُصْنِ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَيَأْتِيكُمْ رُكَيْبٌ مُبْغَضُونَ ، فَإِنْ جَاءُوكُمْ فَرَحِّبُوا بِهِمْ وَخَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ ، فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا ، وَأَرْضُوهُمْ فَإِنَّ تَمَامَ زَكَاتِكُمْ رِضَاهُمْ وَلْيَدْعُوا لَكُمْ " . قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو الْغُصْنِ هُوَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ غُصْنٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب ہے کہ تم سے زکاۃ لینے کچھ ایسے لوگ آئیں جنہیں تم ناپسند کرو گے ، جب وہ آئیں تو انہیں مرحبا کہو اور وہ جسے چاہیں ، اسے لینے دو ، اگر انصاف کریں گے تو فائدہ انہیں کو ہو گا اور اگر ظلم کریں گے تو اس کا وبال بھی انہیں پر ہو گا ، لہٰذا تم ان کو خوش رکھو ، اس لیے کہ تمہاری زکاۃ اس وقت پوری ہو گی جب وہ خوش ہوں اور انہیں چاہیئے کہ تمہارے حق میں دعا کریں “ ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1588
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, صخر بن إسحاق لين (تق : 2902) وشيخه عبد الرحمٰن بن جابر بن عتيك مجهول (تقريب التهذيب: 3826), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 64
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف :3175) (ضعیف) » (اس کے راوی صخر لین الحدیث ہیں)
حدیث نمبر: 1589
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ ، يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا ، قَالَ : فَقَالَ : " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ ظَلَمُونَا ؟ قَالَ : " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " . زَادَ عُثْمَانُ : وَإِنْ ظُلِمْتُمْ . قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ جَرِيرٌ : مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` کچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، انہوں نے پوچھا : اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے ” اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں “ ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں : جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا ، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1589
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (989), مشكوة المصابيح (1783)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الزکاة 55 (989)، سنن النسائی/الزکاة 14 (2462)، ( تحفة الأشراف :3218)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 20 (647)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 11 (1802)، مسند احمد (4/362)، سنن الدارمی/الزکاة 32 (1712) (صحیح) »