کتب حدیثسنن ابي داودابوابباب: کیا تجارتی سامان میں زکاۃ ہے؟
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ،حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ الصَّدَقَةَ مِنَ الَّذِي نُعِدُّ لِلْبَيْعِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے` انہوں نے امابعد کہا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیتے تھے کہ ہم ان چیزوں میں سے زکاۃ نکالیں جنہیں ہم بیچنے کے لیے رکھتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تجارت کا مال اگر نصاب کو پہنچ جائے تو اس میں بھی زکاۃ ہے، اس مسئلہ پر امت کا اجماع ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الزكاة / حدیث: 1562
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, خبيب : مجهول, وجعفر : ضعيف, انظر الحديث المتقدم (975), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 62
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4618) (ضعیف) » (اس کے راوی خبیب مجہول ہیں، لیکن مال تجارت پر زکاة اجماعی مسئلہ ہے)