کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ
حدیث نمبر: 697
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أَدْرِي أَدْخَلَ ابْنُ عُمَرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ أَمْ لَا؟ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ مِثْلَ هَذَا الْمَعْنَى لَا يُخَالِفُهُ، وَلَا أَعْلَمُهُ، بَلْ لَا أَشُكُّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلَّا أَنَّهُ حَدَّثَنِي بِجَمِيعِ الْحَدِيثِ فِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ وَالْخُلَطَاءِ وَالرِّقَةِ هَكَذَا إِلَّا أَنِّي لَا أَحْفَظُ إِلَّا الْإِبِلَ فِي حَدِيثِهِ.
حافظ محمد فہد
سالم بن عبداللہ اپنے باپ سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ سفیان بن حسین کے واسطہ سے حدیث میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کی یا نہیں؟ اونٹوں کی زکوٰۃ میں انہیں معانی کی طرح مروی ہے جو اس کے خلاف نہیں، اور میں نہیں جانتا بلکہ اگر اللہ نے چاہا تو مجھے کوئی شک نہیں مگر یہ کہ انہوں نے مجھے ساری حدیث بکریوں، آپس میں شرکاء اور چاندی کے متعلق اسی طرح بیان کی، مگر یہ کہ میں ان کی حدیث میں صرف اونٹوں کا یاد رکھ سکا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 697
تخریج حدیث اخرجه ابوداود ، الزكاة، باب في زكاة السائمة (1568) والترمذى الزكاة، باب ماجاء في زكاة الابل والغن (621) ۔ وقال ”حسن“ وصححه ابن خزيمة (2267) ۔ والحاكم 93،94/11 ، 392۔