کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ صدقوں (کی تفصیل) کی کتاب ہے اور
حدیث نمبر: 696
أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّ هَذَا كِتَابُ الصَّدَقَاتِ فِيهِ: فِي كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَدُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى سِتِّينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ جَذَعَةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى تِسْعِينَ ابْنَتَا لَبُونٍ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ، فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. [ ص: 144 ] وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى مِائَتَيْنِ شَاتَانِ، وَفِيمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، فَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ. وَلَا يُخْرَجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُعُوَارٍ، وَلَا تَيْسٌ إِلَّا مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَتْ رِقَةُ أَحَدِهُمْ خَمْسَ أَوَاقٍ. هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الَّتِي كَانَ يَأْخُذُ عَلَيْهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: بِهَذَا كُلِّهِ نَأْخُذُ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یہ صدقوں (کی تفصیل) کی کتاب ہے اور اس میں ہے کہ ہر چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ایک بکری ہے اور ہر پانچ پر ایک بکری اور اس سے اوپر پینتیس تک ایک برس کی اونٹنی واجب ہے۔ اگر ایک برس کی اونٹنی نہیں تو وہ دو برس کا نر اونٹ ہے جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو اور اس سے اوپر پینتالیس تک دو برس کی وہ اونٹنی ہے جو تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہو۔ اور اس سے اوپر ساٹھ تک تین برس کی وہ اونٹنی ہے جو جفتی کے قابل ہو۔ اور اس سے اوپر پچھتر تک چار برس کی اونٹنی ہے۔ اور اس سے اوپر نوے کی تعداد تک دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں۔ اور اس سے اوپر ایک سو بیس کی تعداد تک تین برس کی وہ دو اونٹنیاں ہیں جو جفتی کے قابل ہوں۔ اور جب تعداد اس سے زیادہ ہو جائے تو ہر چالیس پر دو برس کی اونٹنی اور ہر پچاس پر تین برس کی اونٹنی واجب ہوگی۔ اور (جنگل یا میدان وغیرہ میں) چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ اس طرح ہے کہ جب ان کی تعداد چالیس سے ایک سو بیس تک ہو تو اس میں ایک بکری واجب ہے۔ اس سے اوپر دو سو تک دو بکریاں ہیں اور اس سے اوپر تین سو تک تین بکریاں واجب ہیں، اور جب تعداد اس سے زیادہ ہو جائے تو ہر سو پر ایک بکری واجب ہوگی۔ اور زکوٰۃ میں بوڑھی، عیب والی، اور نر (بکرا) نہ دیا جائے مگر یہ کہ صدقہ لینے والا مناسب سمجھے تو لے لے۔ اور زکوٰۃ (کی زیادتی) کے خوف سے جدا جدا مال کو یکجا اور یکجا مال کو جدا جدا نہ کیا جائے۔ اور جب دو شریک ہوں تو وہ اپنا اپنا حساب برابر کر لیں، اور جب چاندی پانچ اوقیہ تک پہنچ جائے تو اس میں ربع العشر (اڑھائی فیصد یا چالیسواں حصہ) زکوٰۃ واجب ہے۔ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کتاب کے اس نسخہ کی عبارت ہے جس کے مطابق وہ لوگوں سے زکوٰۃ لیتے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم اس سارے کو لیں گے (یعنی ہمارا یہی مذہب ہے)۔“