کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”یہ ہے وہ صدقہ (زکوٰۃ کا نصاب ہے)، پھر بکریوں
حدیث نمبر: 694
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ أَنَسٍ أَوْ أَنَّ فُلَانَ ابْنَ أَنَسٍ، الشَّافِعِيُّ يَشُكُّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: هَذِهِ الصَّدَقَةُ، ثُمَّ تُرِكَتِ الْغَنَمُ وَغَيْرُهَا، وَكَرِهَهَا النَّاسُ. [ ص: 142 ] بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا فَمَنْ سُئِلَهَا عَلَى وَجْهِهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهِ. فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ أُنْثَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ أُنْثَى، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ. وَإِنْ تَبَايَنَتْ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرِيضَةِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا عَلَيْهِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَلَيْهِ الْحِقَّةُ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ.
حافظ محمد فہد
انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”یہ ہے وہ صدقہ (زکوٰۃ کا نصاب ہے)، پھر بکریوں اور ان کے علاوہ کچھ چیزوں کو چھوڑ دیا گیا، اور لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا۔“ یہ زکوٰۃ کا وہ فریضہ ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض قرار دیا ہے اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا۔ اس لیے جو شخص مومنوں سے اس کے مطابق زکوٰۃ مانگے تو انہیں دے دینی چاہیے، اور اگر کوئی اس سے زیادہ مانگے تو ہرگز نہ دے۔ چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں ہر پانچ پر ایک بکری دینی ہوگی۔ اگر اونٹوں کی تعداد 25 تک پہنچ جائے تو 25 سے 35 تک، ایک برس کی مادہ اونٹنی (بنت مخاض) واجب ہوگی، اگر ایک برس کی مادہ اونٹنی نہیں تو دو برس کا نر اونٹ (ابن لبون) جو تیسرے سال میں داخل ہو چکا ہو، واجب ہے۔ جب اونٹوں کی تعداد 36 تک پہنچ جائے تو 36 سے 45 تک دو برس کی مادہ اونٹنی (بنت لبون) واجب ہوگی۔ جب تعداد 46 تک جائے تو 46 سے 60 تک تین برس کی جفتی کے قابل اونٹنی (حقہ) واجب ہے۔ اور جب تعداد 61 تک پہنچ جائے تو 61 سے 75 تک چار برس کی مادہ (جذعہ) واجب ہوگی۔ جب تعداد 76 تک پہنچ جائے تو 76 سے 90 تک دو دو برس کی دو اونٹنیاں (دو بنت لبون) واجب ہوں گی۔ جب تعداد 91 تک پہنچ جائے تو 91 سے 120 تک جفتی کے قابل دو اونٹنیاں (دو حقے) واجب ہوں گی اور جب تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے تو ہر 40 پر دو برس کی اونٹنی اور ہر 50 پر تین برس کی اونٹنی واجب ہوگی۔ اگر اونٹوں کی عمریں صدقہ کے فرض میں علیحدہ علیحدہ ہوں تو جس کے اونٹوں کی تعداد جذعہ کے صدقہ کو پہنچ جائے اور اس کے پاس جذعہ نہیں بلکہ حقہ ہے تو اس سے زکوٰۃ میں حقہ کے ساتھ دو بکریاں بھی لے لی جائیں، اگر ان کے دینے میں اسے آسانی ہو ورنہ 20 درہم لے لیے جائیں۔ اور اگر کسی پر زکوٰۃ میں حقہ واجب ہو اور اس کے پاس حقہ نہیں بلکہ جذعہ ہے تو اس سے جذعہ لے کر صدقہ وصول کرنے والا 20 درہم یا دو بکریاں زکوٰۃ دینے والے کو دے دے۔