کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ اپنے
حدیث نمبر: 652
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْتِفُ شَعْرَهُ، وَيَضْرِبُ نَحْرَهُ، وَيَقُولُ: هَلَكَ الْأَبْعَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً" ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُهْدِيَ بَدَنَةً" ؟ قَالَ: لَا. قَالَ: "فَاجْلِسْ" . قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقِ تَمْرٍ فَقَالَ: خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ، قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ مِنِّي، قَالَ: "فَكُلْهُ، وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَ مَا أَصَبْتَ" . قَالَ عَطَاءٌ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: كَمْ فِي ذَلِكَ الْعَرَقِ؟ قَالَ: مَا بَيْنَ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا إِلَى عِشْرِينَ.
حافظ محمد فہد
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، وہ اپنے بال نوچ رہا تھا اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا، اور کہہ رہا تھا : اور اپنے سینے کو پیٹ رہا تھا اور کہہ رہا تھا دوری نے ہلاک کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے رمضان میں روزے کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔“ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو غلام آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو اونٹ کی قربانی کی طاقت رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اچھا، بیٹھ جا۔“ سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔“ اس آدمی نے کہا: ”میں اپنے آپ سے بڑھ کر کسی کو محتاج نہیں پاتا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو کھاؤ، اور اس (جماع والے) دن کے بدلے کسی اور دن روزہ رکھو۔“ عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے پوچھا: ”اس تھیلے میں کتنی کھجوریں تھیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ 15 سے 20 صاع کے درمیان تھیں۔