کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا باپ مدینہ کے گورنر مروان بن
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: كُنْتُ أَنَا وَأَبِي عِنْدَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَتَذْهَبَنَّ إِلَى أُمَّيِ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَلْتَسْأَلَنَّهُمَا عَنْ ذَلِكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَلَّمَ عَلَيْهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَ مَرْوَانَ فَذُكِرَ لَنَا أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا أَفْطَرَ ذَلِكَ الْيَوْمَ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَيْسَ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَتَرْغَبُ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ؟ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: لَا وَاللَّهِ يَا عَائِشَةُ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كَانَ لَيُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ [ ص: 119 ] جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ. قَالَ: ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا مَرْوَانَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَا قَالَتَا فَأَخْبَرَهُ. فَقَالَ مَرْوَانُ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ لَتَرْكَبَنَّ دَابَّتِي بِالْبَابِ فَلْتَأْتِ أَبَا هُرَيْرَةَ فَلْتُخْبِرْهُ بِذَلِكَ. فَرَكِبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَرَكِبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَتَحَدَّثَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَاعَةً ثُمَّ ذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: لَا عِلْمَ لِي بِذَلِكَ إِنَّمَا أَخْبَرَنِيهِ مُخْبِرٌ.
حافظ محمد فہد
ابوبکر بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرا باپ مدینہ کے گورنر مروان بن حکم کے پاس تھے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ذکر کیا گیا کہ وہ کہتے ہیں: ”جس نے حالت جنابت میں صبح کی وہ اس دن روزہ چھوڑ دے۔“ مروان نے کہا: اے عبدالرحمن! میں تجھے قسم دے کر کہتا ہوں کہ تو امہات المؤمنین سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے پاس جا اور ان دونوں سے اس کے متعلق ضرور پوچھ ۔ ابوبکر کہتے ہیں : عبدالرحمن گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا حتیٰ کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، عبدالرحمن نے انہیں سلام کیا اور کہا : اے ام المؤمنین ! ہم مروان کے پاس تھے کہ ہمارے سامنے ذکر ہوا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ”جس نے حالت جنابت میں صبح کی وہ اس دن روزہ افطار کرے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ”اے عبدالرحمن ! بات اس طرح نہیں جس طرح ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہی ہے، کیا تو رسول اللہ ﷺ کے عمل سے اعراض کرے گا؟“ عبدالرحمن نے کہا : اللہ کی قسم ! بالکل نہیں اے عائشہ رضی اللہ عنہا ! تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ”میں رسول اللہ ﷺ پر گواہی دیتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جماع کی وجہ سے، نہ کہ احتلام کی وجہ سے، حالت جنابت میں صبح ہوتی، پھر آپ ﷺ اس روز روزہ رکھتے۔“ ابوبکر کہتے ہیں: پھر ہم نکلے اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے۔ ان سے بھی اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی وہی بات کہی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہی تھی۔ ابوبکر کہتے ہیں: ہم نکلے یہاں تک کہ مروان کے پاس آئے۔ عبدالرحمن نے اسے وہی بات بتلائی جو ان دونوں (ازواجِ مطہرات ﷺ) نے کہی تھی۔ تو مروان نے کہا: اے ابو محمد! میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ تو ضرور دروازے پر کھڑی سواری پر سوار ہو کر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس جائے گا اور انہیں اس کے متعلق بتائے گا۔ ابوبکر کہتے ہیں: عبدالرحمن سوار ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ سوار ہو گیا، حتیٰ کہ ہم ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، عبدالرحمن نے ان کے ساتھ کچھ دیر (ارد گرد کی) باتیں کیں پھر یہ ماجرہ ان سے کہا، تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے تو اس کا کچھ علم نہیں، ایک بتانے والے نے مجھے ایسا ہی بتایا تھا۔“