کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا
حدیث نمبر: 644
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَجُلًا قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ وَجْدًا شَدِيدًا، فَأَرْسَلَ امْرَأَتَهُ تَسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ، فَدَخَلَتْ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرَتْهَا، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، فَرَجَعَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى زَوْجِهَا فَأَخْبَرَتْهُ فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، وَقَالَ لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ فَرَجَعَتِ الْمَرْأَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَوَجَدَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا بَالُ هَذِهِ الْمَرْأَةِ" ؟ فَأَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَ: "أَلَا أَخْبَرْتِيهَا أَنِّي أَفْعَلُ ذَلِكَ!" . فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قَدْ أَخْبَرْتُهَا فَذَهَبَتْ إِلَى زَوْجِهَا فَزَادَهُ ذَلِكَ شَرًّا، وَقَالَ: لَسْنَا مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِلُّ اللَّهُ لِرَسُولِهِ مَا شَاءَ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: "وَاللَّهِ إِنِّي لَأَتْقَاكُمْ للَّهِ، وَأَعْلَمُكُمْ بِحُدُودِهِ" .
حافظ محمد فہد
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا، تو اس سے اسے کافی پریشانی لاحق ہوگئی۔ اس نے اپنی بیوی کو بھیجا کہ وہ اس کے متعلق دریافت کرے۔ اس عورت نے ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: ”رسول اللہ ﷺ روزہ کی حالت میں بوسہ لیتے ہیں۔“ اس عورت نے واپس آکر اپنے خاوند کو بتایا تو اس بات نے اسے اور پریشان کر دیا، اس آدمی نے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کی طرح نہیں ہیں کیونکہ اللہ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے جائز قرار دیتا ہے۔“ وہ عورت دوبارہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو رسول اللہ ﷺ کو ان کے ہاں تشریف فرما پایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس عورت کو کیا مسئلہ ہے؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو بتلایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا آپ نے اسے بتایا نہیں کہ میں یہ کام کرتا ہوں؟“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”میں نے اسے بتلا دیا تھا (لیکن) یہ اپنے خاوند کے پاس گئی تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گیا، اور اس نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی طرح نہیں ہیں کیونکہ اللہ اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے حلال کردیتا ہے۔“ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ میں آگئے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی حدود کو جاننے والا ہوں۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 644
تخریج حدیث اسناده ضعيف لإرساله اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (2492) ۔ والطحاوي : (2/ 94)۔