کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے جس
حدیث نمبر: 631
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِمِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ: "لَمْ يَكْتُبِ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، فَأَنَا صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُفْطِرْ" .
حافظ محمد فہد
حمید بن عبد الرحمن سے روایت ہے انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے جس سال انہوں نے حج کیا سنا جبکہ وہ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے۔ اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آج کے دن یوم عاشوراء کے متعلق سنا : ”اس کا روزہ اللہ نے تم پر فرض نہیں کیا، البتہ میں روزے سے ہوں، تم میں سے جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے افطار کرے۔“