کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ عاشوراء کے دن زمانہ
حدیث نمبر: 629
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةُ، وَتَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ بیان فرماتی ہیں کہ عاشوراء کے دن زمانہ جاہلیت میں قریش روزہ رکھا کرتے تھے، اور نبی ﷺ بھی روزہ رکھتے، جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے، تو بھی اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی اس دن روزہ کا حکم دیا، جب رمضان کی فرضیت ہوئی تو یہ (رمضان کے روزے) فرضی تھے اور آپ نے اس (یوم عاشوراء کے روزہ) کو چھوڑ دیا، اور فرمایا: ”جس کا جی چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے روزہ نہ رکھے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 629
تخریج حدیث اخرجه البخاری، الصوم، باب صوم يوم عاشوراء (2002)۔