کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک کے زمانے میں رسول
حدیث نمبر: 623
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانَ غَزْوَةِ تَبُوكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ بَعْدَ أَنْ أَضْحَى إِذْ هُوَ [ ص: 107 ] بِجَمَاعَةٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: "مَا هَذِهِ الْجَمَاعَةُ؟" . قَالُوا: رَجُلٌ صَائِمٌ، أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ" .
حافظ محمد فہد
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم غزوہ تبوک کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اور رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت چلتے، اچانک آپ ﷺ نے درخت کے سائے تلے ایک جماعت دیکھی تو پوچھا: ”یہ جماعت کیسی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ایک روزہ دار ہے جسے روزے نے مشکل میں ڈال دیا ہے (یا اسی طرح کی کوئی بات کہی) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے۔“