کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے ان کے دادا سے مروی ہے انہوں نے کہا، جب رسول
حدیث نمبر: 603
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا قَائِلًا يَقُولُ: وَإِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ.
حافظ محمد فہد
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے ان کے دادا سے مروی ہے انہوں نے کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور تعزیت کرنے والے آئے تو انہوں نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کی طرف سے ہر مصیبت میں تعزیت کرنے والے ہوتے ہیں، اور ہر ہلاک ہونے والے کے خلفاء ہوتے ہیں، اور ہر فوت ہو جانے والے سے وراثت پانے والے ہوتے ہیں، اللہ کے لیے اعتماد پیدا کرو، اور اسی سے امید رکھو، اصل مصیبت والا تو وہ ہے جسے ثواب سے محروم کر دیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 603
تخریج حدیث اسناده ضعيف جدا، فان القاسم بن عبدالله بن عمر متروك : اخرجه البيهقي : 4/ 60 ۔ وفي المعرفة السنن والآثار له (2188)۔