کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ
حدیث نمبر: 588
أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ السُّنَّةَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ أَنْ يُكُبِّرَ الْإِمَامُ، ثُمَّ يَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْلِصُ الدُّعَاءَ لِلْجِنَازَةِ فِي التَّكْبِيرَاتِ لَا يَقْرَأُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ، ثُمَّ يُسَلِّمُ سِرًّا فِي نَفْسِهِ.
حافظ محمد فہد
ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی نے اسے خبر دی کہ نماز جنازہ میں سنت یہ ہے کہ امام تکبیر کہے پھر آہستہ اپنے دل میں پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور میت کے لیے اخلاص کے ساتھ دعا کرے، باقی تکبیرات میں کچھ بھی قرات نہ کرے، پھر آہستہ سے دل میں ہی سلام پھیر لے۔