کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگ
حدیث نمبر: 549
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، قَالَ: نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ. قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ. فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آتِيَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ فِي مَقَامِكَ شَيْئًا، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ كَأَنَّكَ تَكَعْكَعْتَ. قَالَ: "إِنِّي رَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ الْجَنَّةَ، فَتَنَاوَلْتُ مِنْهَا عُنْقُودًا، وَلَوْ أَخَذْتُهُ لَأَكَلْتُمْ مِنْهُ مَا بَقِيَتِ الدُّنْيَا وَرَأَيْتُ أَوْ أُرِيتُ النَّارَ فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ مَنْظَرًا، وَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ" ، قَالُوا: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "بِكُفْرِهِنَّ" ، قِيلَ: [ ص: 75 ] أَيَكْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ: يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَيَكْفُرْنَ الْإِحْسَانَ لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَى إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ، ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ .
حافظ محمد فہد
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے بیان فرماتے ہیں کہ سورج کو گرہن لگ گیا، رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی اور لوگ آپ کے ساتھ تھے۔ آپ نے لمبا قیام کیا، فرمایا: سورۃ البقرہ کی تلاوت کے برابر، فرمایا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر کھڑے ہوئے تو قیام بھی لمبا کیا لیکن پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا مگر پہلے قیام سے کم، پھر لمبا رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا۔ پھر آخر کار سلام پھیر دیا تو (اس دوران) سورج روشن ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن نہ کسی کی موت سے لگتا ہے اور نہ ہی زندگی سے، جب تم ان کو (گرہن میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو“ صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! ہم نے دیکھا کہ (نماز میں) آپ اپنی جگہ سے آگے بڑھے اور پھر پیچھے ہوئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جنت دیکھی یا مجھے دکھائی گئی، اور اس کا خوشہ توڑنا چاہا تھا، اگر میں اسے توڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے، اور میں نے جہنم دیکھی یا مجھے دکھائی گئی۔ اور میں نے اس سے بھیانک منظر نہیں دیکھا، میں نے اس میں عورتیں زیادہ ہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اس کی کیا وجہ ہے اے اللہ کے رسول ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے کفر (انکار) کی وجہ سے۔“ کہا گیا: کیا اللہ کا کفر (انکار) کرتی ہیں؟ فرمایا: ”شوہر کی ناشکری اور احسان فراموشی کی وجہ سے۔ زندگی بھر تم کسی عورت کے ساتھ حسن سلوک کرو، لیکن کبھی اگر کوئی خلاف مزاج بات آگئی تو فوراً کہے گی، میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 549
تخریج حدیث اسناده ضعيف لضعف شيخ الشافعي والحسن البصري مدلس وعنعن اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (1992)۔