کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں، سورج کو گرہن لگ گیا تو نبی ﷺ
حدیث نمبر: 539
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَكَى ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ صَلَاتَهُ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ، وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ" .
حافظ محمد فہد
ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں، سورج کو گرہن لگ گیا تو نبی ﷺ نے نماز پڑھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ کی نماز دو رکعتیں تھی اور ہر رکعت میں دو رکوع تھے پھر لوگوں کو خطبہ دیا تو فرمایا: ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان کو گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا، اور جب تم ان کی یہ حالت دیکھو تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی کرو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 539
تخریج حدیث اخرجه البخارى الكسوف، باب صلاة الكسوف جماعة (1052) ومسلم ، الكسوف، باب ما عرض على النبي صلی اللہ علیہ وسلم في صلاة الكسوف من أمر الجنة والنار (907)۔