کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں لوگوں کو
حدیث نمبر: 536
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخَذَتِ النَّاسَ رِيحٌ بِطَرِيقِ مَكَّةَ وَعُمَرُ حَاجٌّ، فَاشْتَدَّتْ، فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ: مَا بَلَغَكُمْ فِي الرِّيحِ؟ فَلَمْ يَرْجِعُوا إِلَيْهِ شَيْئًا، فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عُمَرُ عَنْهُ مِنْ أَمْرِ الرِّيحِ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُ عُمَرَ، وَكُنْتُ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أُخْبِرْتُ أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الرِّيحُ [ ص: 69 ] مِنْ رَوْحِ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَبِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَعُوذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا" .
حافظ محمد فہد
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں لوگوں کو ہوا نے آ لیا اور عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے جا رہے تھے۔ ہوا تیز ہوگئی، عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ارد گرد والوں سے پوچھا: کیا تمہیں ہوا کے بارے میں (نبی ﷺ سے) کچھ حکم پہنچا ہے؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، مجھے اس کی اطلاع ملی جو ہوا کے بارے میں عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا۔ میں نے اپنی اونٹنی دوڑائی یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آگیا، حالانکہ میں لوگوں کے آخر میں تھا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ہوا کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے: ”ہوا اللہ کے امر سے ہے جو رحمت اور عذاب دونوں لاتی ہے، اس کو برا بھلا نہ کہو، اللہ سے اس میں موجود خیر کا سوال کرو، اور اللہ سے اس میں موجود شر سے پناہ مانگو۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / مسند الإمام الشافعي / حدیث: 536
تخریج حدیث أخرجه ابوداود، الأدب ، باب ما يقول اذا هاجت الريح (5097) ۔ وابن ماجة، الأدب، باب النهي عن سب الريح (3727) ۔ وصححه ابن حبان (1989) ۔ والحاكم 4 / 285 ـ ووافقه الذهبي۔