کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے
حدیث نمبر: 522
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي إِثْرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ، فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا أَوْ نَوْءِ كَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ .
حافظ محمد فہد
زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حدیبیہ کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش ہو چکی تھی ، نماز سے فاریغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”معلوم ہے تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: (اللہ نے فرمایا) صبح ہوئی تو میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان لائے اور کچھ نے میرا انکار کیا، جس نے یہ کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہمارے لیے بارش برسی وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور ستاروں (پر ایمان) کا منکر ہے، اور جس نے یہ کہا کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے بارش برسی، تو یہ میرا انکار کرنے والا اور ستاروں پر ایمان رکھنے والا ہے۔