کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ
حدیث نمبر: 516
أَخْبَرَنَا مَنْ لَا أَتَّهِمُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُوَيْمِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ شَدِيدَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ بِهِمْ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَاءَ صَاحِبُكُمْ لَمُطِرْتُمْ مَا شِئْتُمْ وَلَكِنَّهُ لَا يُحِبُّ [ ص: 61 ] ذَلِكَ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِ الْيَهُودِيِّ، فَقَالَ: "أَوَ قَالَ ذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: "إِنِّي لَأَسْتَنْصِرُ بِالسُّنَّةِ عَلَى أَهْلِ نَجْدٍ، وَإِنِّي لَأَرَى السَّحَابَ خَارِجَةً مِنَ الْعَيْنِ فَأَكْرَهُهَا، مَوْعِدُكُمْ يَوْمَ كَذَا أَسْتَسْقِي لَكُمْ" . قَالَ: فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ غَدَا النَّاسُ فَمَا تَفَرَّقَ النَّاسُ حَتَّى أُمْطِرُوا مَا شَاءُوا. قَالَ: فَمَا أَقْلَعَتِ السَّمَاءُ جُمُعَةً.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ سخت قحط سالی کا شکار ہو گئے، ایک یہودی ان کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: اگر تمہارا ساتھی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) چاہے تو تم پر جتنی تم چاہو بارش نازل ہو، لیکن وہ یہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر بارش برسے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودی کی بات بتلائی گئی تو آپ نے فرمایا: ”کیا اس نے یہ بات کہی ہے؟“ صحابہ نے کہا: ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس قحط میں اہل نجد کے لیے مدد طلب کروں گا، اور میں دیکھتا ہوں کہ بادل عدن سے نکلنے والے ہیں، جنھیں میں ناپسند کرتا ہوں۔ فلاں دن تم سے وعدہ رہا میں تمہارے لیے بارش طلب کروں گا۔“ فرمایا: جب وہ دن آیا تو لوگ صبح ہی اکٹھے ہو گئے ، ابھی علیحدہ نہ ہوئے تھے کہ بارش برسنے لگی پھر ایک ہفتہ تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔