کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں عید کی
حدیث نمبر: 501
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدِ اجْتَمَعَ لَكُمْ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا عِيدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ أَنْ يَنْتَظِرَ الْجُمُعَةَ فَلْيَنْتَظِرْهَا، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَرْجِعَ فَلْيَرْجِعْ فَقَدْ أَذِنْتُ لَهُ.
حافظ محمد فہد
ابن ازہر کے آزاد کردہ غلام ابو عبید سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں عید کی نماز پڑھنے کے لیے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید گاہ آیا، آپ نے نماز پڑھائی پھر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں اکٹھی آگئی ہیں اور جو کوئی مدینہ کے اطراف میں بلائی آبادی کے رہنے والوں میں سے جمعہ کا انتظار کرنا چاہتا ہے وہ اس کا انتظار کرے اور جو کوئی واپس جانا چاہتا ہے چلا جائے میری طرف سے اجازت ہے۔