کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین دن جس
حدیث نمبر: 465
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ تُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ [ ص: 38 ] شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ، إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ" ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ؟ وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي" ، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟ وَقَالَ ابْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى. قَالَ: فَهُوَ ذَلِكَ.
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اور اسی دن وہ زمین پر بھیجے گئے اور اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اور اسی دن ان کی وفات ہوئی اور اسی دن قیامت آئے گی۔ جنوں اور انسانوں کے علاوہ کائنات کا ہر جانور صبح صادق سے لے کر طلوع آفتاب تک جمعہ کے دن قیامت کے لیے کان لگائے رہتا ہے (صور کی آواز سننے کے لیے) اور اس میں ایک ایسی گھڑی ہے جس میں اگر کوئی مسلمان بندہ اللہ سے سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا کرتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”یہ جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہے“۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا: ”یہ آخری گھڑی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں سامنا کرتا اس کا کوئی مسلمان بندہ حالتِ نماز میں، اور آخری گھڑی (بعد از عصر کا وقت) میں تو نماز نہیں پڑھی جاتی؟“ عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا یہ نبی ﷺ کا فرمان نہیں کہ جو اپنی جگہ پر بیٹھ کر نماز کا انتظار کرے وہ نماز میں ہوتا ہے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جائے؟“ کہتے ہیں میں نے کہا: ”ہاں“۔ تو فرمایا: ”یہی وہ گھڑی (وقت) ہے۔“