کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: شرحبیل بن سعد اپنے باپ سے روایت ہے کہ ایک انصارى رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض
حدیث نمبر: 463
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهَا مِنَ الْخَيْرِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ [ ص: 36 ] صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أَهْبَطَ اللَّهُ آدَمَ إِلَى الْأَرْضِ، وَفِيهِ تَوَفَّى اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ إِيَّاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ مَأْثَمًا أَوْ قَطِيعَةَ رَحِمٍ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ فَمَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا وَهُوَ يُشْفِقُ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ .
حافظ محمد فہد
شرحبیل بن سعد اپنے باپ سے روایت ہے کہ ایک انصارى رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں جمعہ کے متعلق بتلائیے کہ اس میں کتنی خیر ہے؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس میں پانچ خوبیاں ہیں: اس میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی میں اللہ نے (آدم علیہ السلام) کو زمین پر بھیجا، اسی دن آدم علیہ السلام فوت ہوئے، اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس میں بندہ اگر اللہ تعالیٰ سے گناہ یا قطع رحمی کا سوال نہ کرے تو اس کو جو مانگے دے دیتے ہیں۔ اور اسی دن قیامت آئے گی، ہر مقرب فرشتہ، آسمان، زمین اور پہاڑ سارے جمعہ کے دن سے ڈرتے ہیں۔“